خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 153
خطبات مسرور جلد 15 153 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 07 اپریل 2017 نام نہاد علماء ہیں انہوں نے اپنی روزی روٹی اور انفرادیت قائم کرنے کے لئے عجیب عجیب قسم کے رسم ورواج اور بدعات میں مبتلا کیا ہوا ہے اور ان علماء کے پیچھے چلنے والے ان سے علیحدہ ہونا بھی نہیں چاہتے اور انہی کی وجہ سے جماعت کی مخالفت بھی ہوتی ہے جیسا پہلے بھی ایک دو واقعات میں نے بیان کئے کہ وہاں افریقہ میں مخالفت کرنے والے لوگ بھی ہیں۔تو بہر حال وہاں بھی احمدیت قبول کرنا اتنا آسان نہیں ہے لیکن اللہ تعالیٰ پھر بھی لوگوں کے لئے رہنمائی کے سامان پیدا فرما تارہتا ہے اور ہمارے مبلغین اور معلمین کے لئے بھی کہ کس طرح انہوں نے تبلیغ کرنی ہے۔آئیوری کوسٹ کے مبلغ ایک واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ سان پید رو ( San Pedro) ریجن کے لوکل معلم ایک گاؤں میں تبلیغ کے لئے گئے جس کے نتیجہ میں اس گاؤں کے امام سمیت پندرہ افراد نے احمدیت قبول کر لی۔بعد میں امام نیشنل جلسہ سالانہ آئیوری کوسٹ میں شامل ہوئے تا کہ جماعت کے افراد کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملے۔جلسہ دیکھ کر بڑے خوش ہوئے اور مسجد کے لئے اپنا ایک پلاٹ بھی پیش کیا۔لیکن یہ سب لوگ شہر کے ایک بڑے امام کے تابع تھے۔گاؤں میں پہلے جمعہ کی نماز نہیں ادا کی جاتی تھی باوجود اس کے کہ وہاں امام تھا اور وجہ یہ بتائی جاتی تھی کہ شہر سے بڑے امام کو بلا کر پھر کوئی گائے یا بکری ذبح کر کے اس کی دعوت کی جائے اور پھر جمعہ ہو سکتا ہے۔نہیں تو جمعہ نہیں ہو سکتا۔اجازت نہیں ہے۔تو یہ عجیب و غریب قسم کی بدعات انہوں نے وہاں رائج کی ہوئی ہیں اور بڑے مولوی صاحب جو ہیں جب ان کو فرصت ملتی مختلف جگہوں سے دعوتیں کھانے کے بعد جب ان کا نمبر آتا تبھی کسی گاؤں میں جا کے جمعہ پڑھاتے تھے اور اس وجہ سے جمعہ پڑھنا جو ایک بنیادی فرض ہے ایک مومن کے لئے اس سے ان کو محروم کیا ہوا تھا۔حدیث میں تو آتا ہے کہ تین جمعے جس نے لگاتار چھوڑے اس کے دل پر داغ لگ گیا۔(سنن ابن ماجه کتاب اقامة الصلوات باب فى من ترك الجمعة من غير عذر حدیث 1125) تو بہر حال ان مولوی صاحبان کی یہ اپنی شریعت تھی۔تو گاؤں کے اس چھوٹے مولوی کو جب یہ بتایا گیا کہ نماز جمعہ کے لئے ان چیزوں کی ضرورت نہیں ہے۔اس پر اس نے واپس گاؤں جاکر لوگوں کو سمجھانے کی کوشش کی کہ ہم نماز جمعہ ادا کر سکتے ہیں اور اس میں کوئی روک نہیں ہے۔ضروری نہیں ہے بڑے مولوی کی دعوت ہو تو پھر جمعہ ادا ہو گا۔اس پر گاؤں کے دوسرے لوگوں نے جو احمدی نہیں ہوئے تھے انہوں نے مخالفت کی اور امام کو اپنی مسجد میں جمعہ پڑھانے کی اجازت نہیں دی۔اس پر امام نے ایک عارضی چھپر بنا کر چند احمدیوں کے ساتھ مل کر نماز جمعہ ادا کی جس پر پھر ان شرارتی لوگوں نے اس چھپر کو توڑ دیا، گرا دیا۔تو پھر یہ کہتے ہیں کہ اس پہ میں لوکل معلم اور چند احمدی احباب کو ساتھ لے کر گاؤں کے چیف کے پاس گیا اور ساری بات بیان کی۔چیف نے فیصلہ کیا کہ اگر مسجد والے آپ کو مسجد میں نماز نہیں پڑھنے دیتے تو آپ کسی دوسری جگہ نماز پڑھ لیں۔جب دو جگہ نماز ہوگی تو لوگ خود