خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 150
خطبات مسرور جلد 15 150 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 07 اپریل 2017 حذف کر دیتا، کاٹ دیتا کیونکہ اس وقت میرا یہی عقیدہ تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد وحی بند ہے اور اس کا دعویدار جھوٹا ہے۔لیکن خدا تعالیٰ کی خاص قدرت سے ایسا ہوا کہ میں کبھی بھی پروگرام میں کال کرنے میں کامیاب نہ ہو سکا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ میں ایم ٹی اے دیکھتا رہا اور رفتہ رفتہ تمام امور کے ساتھ ختم نبوت کا مسئلہ بھی میری سمجھ میں آگیا یہاں تک کہ میرے سامنے امام الزمان مسیح موعود اور امام مہدی کی بیعت کے علاوہ کوئی راستہ نہ بچا چنانچہ میں نے بیعت فارم پر کر کے ارسال کر دیا۔بیعت کے بعد میں چاہتا تھا کہ یہ خبر دوسروں تک بھی پہنچے۔چنانچہ اس کے لئے میں نے اپنے ایک قریبی دوست کا انتخاب کیا جس کے بارے میں مجھے بہت حسن ظن تھا کہ وہ میری بات سنے گا۔میں نے اسے احمدیت کا پیغام پہنچایا تو وہ خلاف توقع اچانک شدید غصہ میں آکر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی شان میں گستاخی کرنے لگا۔کہتے ہیں مجبوراً میں اسے چھوڑ کر نہایت دکھی دل کے ساتھ ، بے چین روح کے ساتھ ، بو جھل قدموں سے اپنے گھر لوٹ آیا اور حسب عادت جب ٹی وی آن کیا تو اس وقت ایم ٹی اے پر سورۃ آل عمران کی یہ آیت پڑھی جا رہی تھی۔فَاِن كَذَّبُوكَ فَقَدْ كُذِبَ رُسُلٌ مِنْ قَبْلِكَ جَاءَ وَبِالْبَيِّنَتِ وَالزُّبُرِ وَالْكِتَبِ المنير (آل عمران: 185) که پس اگر انہوں نے تجھے جھٹلا دیا ہے تو تجھ سے پہلے بھی رسول جھٹلائے گئے تھے۔وہ کھلے کھلے نشان اور الہی صحیفے اور روشن کتاب لائے تھے۔کہتے ہیں یہ آیت میرے دل کی حالت کے لئے درود و سلام بن گئی اور مجھے یقین ہو گیا کہ یہ کوئی اتفاق نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کی طرف سے میرے لئے پیغام ہے کہ رسولوں کی تکذیب اور ان سے استہزاء تو ہو تا چلا آیا ہے پھر اگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ ایسا ہوا تو یہ کوئی نئی بات نہیں۔لیکن انبیاء کی اس حالت کے باوجود خدا تعالیٰ کی مدد اور نصرت سے ان کا غالب آناد نیا کے لئے خدا تعالیٰ کی ہستی کا عظیم ثبوت اور خدا تعالیٰ کے مامورین کی صداقت کی بتین دلیل ہے۔کہتے ہیں یہ سوچ کر میری پہلی حالت جاتی رہی اور خدا کی اس نعمت پر شکر کے جذبات پیدا ہو گئے کہ اس نے اپنے امام الزمان کی بیعت کی توفیق عطا فرمائی اور اس کے منکرین میں سے نہیں بنایا۔دیکھیں ایک نیک فطرت کو تو اللہ تعالیٰ نے بچا لیا لیکن دوسرے کی پتا نہیں یہ حالت نہیں تھی اس پر اللہ تعالیٰ کا فضل نہیں ہوا اور نہ صرف اثر نہیں ہوا بلکہ بد بختی کی وجہ سے گستاخ بھی ہوا اور جس نے بیعت کی تھی اس کی تسلی کے اللہ تعالیٰ نے فوری سامان بھی پیدا فرما دیئے ، نہ صرف تسلی کے لئے بلکہ اس کو جو صدمہ پہنچا تھا اس کو دور بھی کر دیا۔پھر ایک خاتون کا واقعہ ہے جنہیں اللہ تعالیٰ نے ان کی نیک فطرت کی وجہ سے بیعت کی توفیق عطا فرمائی۔باوجود اس کے کہ مسلمانوں کے بارے میں جو عمومی دہشتگردی کا تصور ہے اس کی وجہ سے یہ ہمارے سے بھی خوفزدہ تھیں لیکن پھر بھی اللہ تعالیٰ نے ایسے سامان پیدا فرمائے۔افریقہ کی ایک گاؤں کی رہنے والی عورت ہیں جو گنی کے ایک بڑے شہر بو کے (Boke) کے قریبی گاؤں میں رہتی ہیں۔حاجہ آمی فادیگا (Haja Amie Fadiga)