خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 149 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 149

خطبات مسرور جلد 15 149 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 07 اپریل 2017 ایک بلند چھت والے وسیع و عریض ہال میں بہت سے لوگوں کے ہمراہ ایک لائن میں ہوں جس کے ایک سرے پر دو شخص کھڑے ہیں۔وہ کہتے ہیں ہماری لائن میں سے ہر ایک اپنی باری پر ان دو اشخاص میں سے دائیں جانب والے شخص کے ساتھ بڑی گرمجوشی کے ساتھ مصافحہ کر کے ہال کے دروازے کی جانب چلا جاتا ہے۔گویا یہ طویل لائن ان دو میں سے ایک شخص کے ساتھ مصافحہ کے لئے خاص طور پر بنائی گئی ہے۔کہتے ہیں میں دور سے یہ منظر دیکھ کر کہتا ہوں کہ لوگ دونوں کی بجائے صرف ایک شخص سے اتنی گرمجوشی سے مصافحہ کیوں کرتے ہیں؟ دونوں سے کیوں نہیں کرتے ؟ تو قریب پہنچنے پر میں دیکھتا ہوں کہ ان میں سے ایک شخص سفید داڑھی والا ہے جبکہ اس کے دائیں جانب والا ایک در میانے قد اور گندمی رنگ کا شخص ہے جس کے سر اور داڑھی کے بال سیاہ ہیں۔کہتے ہیں جب میری باری آئی تو میں نے سفید داڑھی والے شخص کی طرف ہاتھ بڑھایا تو اس نے مجھے سیاہ داڑھی والے اور گندمی رنگ والے شخص کی طرف اشارہ کیا کہ ان سے سلام کرو تو میں نے نہایت گرمجوشی سے ان کے ساتھ مصافحہ کیا اور کہتے ہیں اس کے ساتھ ہی میرا دل اس شخص کی محبت میں ڈوب گیا۔وہ مجھے دیکھ کر مسکرایا۔اس کی مسکراہٹ میں ایک ایسا جادو تھا کہ میں آج تک اس مسکراہٹ کو بھلا نہیں سکتا۔شخص پھر کہتے ہیں جب احمدیت کا تعارف ہوا اور میں نے ایم ٹی اے دیکھنا شروع کیا تو انہی ابتدائی ایام میں ایک روز حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تصویر دکھائی گئی پھر کچھ دیر کے بعد میرا خطبہ پیش ہو رہا تھا۔میری تصویر سامنے آئی تو کہتے ہیں دونوں کو دیکھ کر مجھے اپنی خواب یاد آگئی۔خواب میں دکھایا جانے والا سفید داڑھی والا جو تھا میرے بارے میں کہتے ہیں کہ تم تھے۔جبکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سیاہ داڑھی والے تھے جن کو سب لوگ مل رہے تھے اور میں بھی اشارہ کر رہا تھا کہ ان کو ملو۔کہتے ہیں اس کے بعد احمدیوں سے انٹر نیٹ پر رابطہ کیا۔مختلف سوالات کئے جن کے جواب پانے کے بعد میں نے بیعت کر لی۔پھر ایک صاحب جن کے واقعہ کو دیکھ کر لگتا ہے کہ اللہ تعالیٰ گھیر کر انہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کی بیعت میں شامل کرنا چاہتا تھا۔اللہ تعالیٰ کو ان کی کوئی نیک بات پسند آئی۔یہ مصر کے ہیں، عبد الہادی نام ہے۔یہ کہتے ہیں کہ احمدیت سے تعارف ایم۔ٹی۔اے العربیہ کے ذریعہ ہوا۔پروگرام ان کو پسند آتا تھا لیکن کہتے ہیں کہ امام بانی جماعت احمدیہ کی نبوت اور صاحب وحی اور الہام ہونا سمجھ نہیں آتا تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بارے میں یہ بات مشکوک تھی۔کہتے ہیں کہ میں نے بار بار پر وگرام الحوار المباشر میں فون کرنے کی کوشش کی لیکن ہر بار ناکامی کا منہ دیکھنا پڑتا۔رابطہ نہیں ہو تا تھا۔اور فون کا مقصد کیا تھا؟ کہتے ہیں میرا مقصد صرف ایک سوال تھا اور اس کا ہاں یا نہ میں جواب لینا تھا اور سوال یہ تھا کہ کیا جماعت کے بانی دیگر انبیاء کی طرح معصوم ہیں اور کیا وہ صاحب وحی و الہام ہیں ؟ کہتے ہیں اگر اس کا جواب مجھے ہاں میں دیا جاتا تو میں اسی روز اس چینل کو اپنی لسٹ سے