خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 151
خطبات مسرور جلد 15 151 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 07 اپریل 2017 ان کا نام ہے۔کہتی ہیں کہ ایک روز ان کے پاس جماعت احمدیہ کا ایک معلم آیا اور جماعت کی تبلیغ کی اور جلسہ سالانہ میں شمولیت کی دعوت دی۔ان دنوں وہاں جلسہ ہو رہا تھا۔کہتی ہیں پیغام تو بظاہر اچھا تھا۔پہلے میں جلسہ میں شامل ہونے کے لئے تیار ہوئی اور گاڑی میں پٹرول وغیرہ بھی ڈلوایا۔اچھی کھاتی پیتی عورت تھیں لیکن رہتی گاؤں میں تھیں۔کہتی ہیں ان دنوں اسلامی تنظیموں کے حوالے سے دہشتگردی کے واقعات کی وجہ سے میں نے سوچا کہ کہیں یہ جماعت بھی ایسی ہی نہ ہو اس لئے جلسہ میں جانے کا ارادہ ترک کر دیا کہ پتا نہیں کیا ہونا ہے وہاں۔مگر دل میں یہ دعا کرنے لگی کہ اے خدا اگر تو یہ لوگ بچے ہیں تو یہ ہمارے گاؤں میں دوبارہ تبلیغ کے لئے آئیں۔لکھنے والے کہتے ہیں کہ خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ کچھ عرصہ بعد ہماری تبلیغی ٹیم بغیر پروگرام کے ان کے گاؤں چلی گئی۔جب اس خاتون نے ہمیں دیکھا تو خوشی سے ان کے آنسو نکل آئے اور کہنے لگی کہ اللہ تعالیٰ نے میری دعا سن لی ہے اور اس طرح ساری فیملی بیعت کر کے جماعت میں داخل ہو گئی۔بعض لوگوں پر اللہ تعالیٰ مہربان ہوتا ہے تو انہیں مالی منفعت کے ذریعہ سے بھی ایمان میں ترقی اور اپنے فرستادے کی قبولیت کی توفیق عطا فرماتا ہے لیکن یہ کوئی شرط نہیں ہے۔بعض لوگ لکھتے ہیں کہ فلاں کہتا ہے کہ اگر مجھے یہ فائدہ ہو جائے، یہ میرا کام ہو جائے تو تب میں احمدیت قبول کروں گا۔احمدیت قبول کرنا، نہ اللہ تعالیٰ پہ احسان ہے، نہ حضرت مسیح موعود پر کوئی احسان ہے۔اپنی دنیا و عاقبت سنوارنی ہوتی ہے اس لئے اللہ تعالیٰ کے پیغام کو سننا اور سمجھنا اور اسے قبول کرناضروری ہے۔بہر حال ایک واقعہ ہے۔اللہ تعالی بعض دفعہ کسی پر فضل کرنا چاہے تو اس شرط کو قبول بھی کر لیتا ہے، اس کا اظہار کر کے اس کو دکھا بھی دیتا ہے۔گیمبیا کے امیر صاحب کہتے ہیں کہ نیا مینی ڈسٹرکٹ کے ایک گاؤں میں ایک خاتون سنتو (Suntu) صاحبہ جماعت کی شدید مخالف تھیں۔جب بھی ان کے سامنے جماعت کا نام لیا جاتا تو سخت غصہ میں آجاتیں اور جماعت کے خلاف بڑی سخت زبان استعمال کرتیں اور کہتیں کہ احمدی لوگ کافر ہیں۔یہ احمدی خود تو دوزخ میں جائیں گے لیکن جو شخص ان کے ساتھ رابطہ رکھے گا وہ بھی دوزخ میں جائے گا۔موصوفہ کھیتی باڑی کرتی تھیں۔ان کا ز میندارہ تھا لیکن گزشتہ دوسال سے ان کی فصل خراب ہو رہی تھی۔کبھی کیڑ الگ جاتا، کبھی دوسرے جانور کھیت میں آکر ان کی فصل کو خراب کر دیتے۔بہر حال ان کو سمجھ نہیں آرہی تھی کہ اس کی کیا وجہ ہے۔کہتے ہیں ہماری ایک احمدی بہن نے ان کو کہا کہ دیکھو جب سے تم جماعت کی مخالفت کر رہی ہو اس وقت سے تمہاری فصل نہیں ہو رہی اس لئے تم جماعت کی مخالفت چھوڑ کر جماعت میں شامل ہو جاؤ تو اللہ تعالیٰ فضل کرے گا۔چنانچہ موصوفہ کو اسی وقت ہی سمجھ آگئی۔انہوں نے کہا چلو تجربہ کرتی ہوں۔وہ اپنی فیملی کے آٹھ افراد کے ساتھ جماعت میں شامل ہو گئیں۔جماعت میں شامل ہونے کے بعد انہوں نے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر بہت فضل گئے۔نہ صرف یہ کہ ان کی فصل بھر پور