خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 146
خطبات مسرور جلد 15 146 14 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 107اپریل2017 خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 07 اپریل 2017ء بمطابق 07 شہادت 1396 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح، مورڈن، لندن، یوکے تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مخالفت تو اس وقت سے ہو رہی ہے جب ابھی باقاعدہ جماعت کا قیام بھی عمل میں نہیں آیا تھا اور آپ علیہ السلام نے بیعت بھی نہیں لی تھی۔مسلمانوں نے بھی اور غیر مسلموں نے بھی اپنا پورا زور آپ کی مخالفت میں لگایا اور اب تک لگارہے ہیں۔آج تو زیادہ پیش پیش مسلمان ہیں لیکن اللہ تعالیٰ آپ کی جماعت کو بڑھاتا چلا جارہا ہے۔اب اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت دنیا کے 209 ممالک میں قائم ہے۔خاص طور پر مسلمان ممالک میں جیسا کہ میں نے کہا جہاں بھی لوگ جماعت کی طرف زیادہ توجہ دیتے ہیں وہاں با قاعدہ منصوبہ بندی سے جماعت کی مخالفت شروع ہو جاتی ہے۔بعض سیاستدان علماء اور ان کے زیر اثر سرکاری کارندے بلکہ جیسا کہ پہلے بھی میں بتا چکا ہوں عدالتوں کے جج بھی اس مخالفت کا حصہ بن جاتے ہیں۔آجکل جیسا کہ میں نے گذشتہ کئی خطبوں میں ذکر کیا ہے الجزائر کے احمدیوں کو ظلم کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔جج صاحبان بھی یہی کہتے ہیں، حکومتی کارندے بھی یہی کہتے ہیں کہ اگر تم اس بات کا اعلان کر دو کہ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام کا مسیح موعود ہونے کا دعویٰ جھوٹا ہے اور وہ مسیح موعود نہیں ہیں بلکہ نعوذ باللہ اسلام مخالف طاقتوں کے ایجنٹ ہیں اور اسلام مخالف طاقتوں کی پشت پناہی اور مغربی ممالک کی پشت پناہی انہیں حاصل ہے اور انہی کی طرف سے یہ کھڑے کئے گئے تھے ، خاص طور پر انگریزوں کی طرف سے تو ہم تمہیں بری کر دیتے ہیں ورنہ پھر جیل اور جرمانے کی سزا کے لئے تیار ہو جاؤ۔اور پھر ظالمانہ فیصلہ کر کے جو لوگ انکار کرتے ہیں، جو ایمانوں پر قائم ہیں ان کو پھر جیلوں میں ڈالا جا رہا ہے اور بڑے بڑے جرمانے بھی کئے جارہے ہیں جن کی ادائیگی کی شاید ان غریب لوگوں میں استطاعت بھی نہ ہو کیونکہ اکثریت غریب لوگوں کی ہے۔بہر حال ان معصوموں اور مظلوموں کو ہمیں اپنی دعاؤں میں یاد رکھنا چاہئے اللہ تعالیٰ انہیں ثبات قدم بھی عطا فرمائے اور ان