خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 145
خطبات مسرور جلد 15 145 دہ مورخہ 31 مارچ 2017 والد صاحب پارٹیشن کے وقت تحصیلدار کے ریڈر تھے جس کی بناء پر شہید مرحوم کے والد نے پارٹیشن کے بعد متعد داحمدی خاندانوں کو ننکانہ میں آباد کیا۔ان کی بڑی مدد کی۔ننکانہ کا ایک علاقہ احمدیوں سے آباد کیا جس کا نام کوچہ احمد یہ رکھا ہوا تھا۔بہر حال بعد میں 1974ء میں جب جماعت کے خلاف وہاں قانون پاس ہوا تو مخالفین کے دباؤ پر اس کو چہ احمدیہ کا نام تبدیل کر کے پھر قذافی سٹریٹ رکھ دیا گیا۔شہید مرحوم کو 1977ء سے تا دم شہادت سوائے تین سال کے بحیثیت صدر جماعت ننکانہ صاحب خدمت کی توفیق ملی۔مرحوم بیشمار خوبیوں کے مالک تھے۔ملنساری اور مہمان نوازی اور خصوصاًمر کزی مہمانوں کی خدمت کے علاوہ غریبوں سے ہمدردی کا وصف نمایاں تھا۔ہمیشہ ہر ایک کی مدد کو تیار رہتے۔نمازوں کے پابند اور خلافت سے والہانہ لگاؤ تھا۔نڈر اور دلیر انسان تھے۔احباب جماعت کے ہمراہ انہیں بھی شدید مخالفانہ حالات کا سامنا رہا۔1989ء میں بیشتر احمدی گھرانوں کو مخالفین نے جلا دیا اور لوٹ لیا جس میں شہید مرحوم کا گھر بھی شامل تھا۔ان تمام مخالفانہ حالات کے باوجود آپ ہمیشہ ثابت قدم رہے اور مخالفین کا مردانہ وار مقابلہ کرتے رہے۔2010ء میں مقامی احمد یہ مسجد کی تعمیر میں ان کو بھر پور خدمت کی توفیق ملی۔شہید مرحوم کی اہلیہ محترمہ کو بھی لمبا عرصہ صدر لجنہ کی توفیق ملی۔چند سال پہلے ان کی وفات ہو گئی تھی۔شہید مرحوم کے سسر ملک محمد دین صاحب مرحوم تھے جو معروف جماعتی مقدمہ ساہیوال میں نامز دتھے اور اسیری کے دوران ہی جیل میں وفات پاگئے تھے۔شہید مرحوم کے پسماندگان میں دو بیٹے ملک محمد اویس جو سول جج لاہو ر ہیں اور محمد فرحان ایڈووکیٹ ہیں۔یہ اس وقت وہاں خدام الاحمدیہ کے قائد بھی ہیں اور ایک بیٹی ڈاکٹر ثمرہ و قار صاحبہ ہیں جو لاہور میں ہیں۔اور ان کے تین بھائی ہیں اور تین بہنیں ہیں۔ایک بھائی ملک محمد نسیم صاحب یہیں لندن میں ہیں۔شہید مرحوم کے والد صاحب اور ڈاکٹر عبد السلام صاحب کی والدہ کی آپس میں رشتہ داری بھی تھی۔شہید مرحوم اور ان کی فیملی کی خواہش کے پیش نظر ان کے آبائی علاقہ ساہیوال میں ان کی تدفین عمل میں آئی ہے۔اللہ تعالیٰ شہید کے درجات بلند کرے اور ان کی اولاد کو بھی ان کے نقش قدم پر چلائے۔نیکیوں میں آگے بڑھاتا چلا جائے اور مخالفین احمدیت اور دشمنان کے بھی جلد پکڑ کے سامان پیدا فرمائے۔الفضل انٹر نیشنل مورخہ 21 اپریل 2017ء تا 27 اپریل 2017 ء جلد 24 شمارہ 16 صفحہ 05 تا08)