خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 144
خطبات مسرور جلد 15 144 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 31 مارچ 2017 جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام بنانا چاہتے ہیں اور یہی ایک حقیقی مسلمان کی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کے مطابق حالت ہونی چاہئے اور یہی حالت ہے جو ہماری بخشش اور مغفرت اور ستاری کا ذریعہ بھی بنتی ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی عافیت میں آنے اور اس کے فضلوں کو جذب کرنے کے لئے ایک دعا بھی سکھائی ہے جسے ہمیں کرتے رہنا چاہئے۔دعا یہ ہے کہ : " اے اللہ ! میں تجھ سے دنیا و آخرت میں عافیت کا طلبگار ہوں۔مولی ! میں تجھ سے دین و دنیا، مال اور گھر بار میں عفو اور عافیت کا خواستگار ہوں۔اے اللہ میری کمزوریاں ڈھانپ دے اور مجھے میرے خوفوں سے امن دے۔اے اللہ ! آگے پیچھے دائیں بائیں اور اوپر سے خود میری حفاظت فرما اور میں تیری عظمت کی پناہ چاہتا ہوں کہ میں نیچے سے کسی مخفی مصیبت کا شکار ہوں۔" (سنن ابو داؤد کتاب الادب باب ما يقول اذا اصبح حديث 5074) پس جب یہ دعا ہم اپنے لئے کریں تو دوسروں کے لئے بھی ایسے ہی جذبات رکھنے والے ہوں اور جب یہ حالت ہو جائے تو اللہ تعالیٰ پھر دعائیں قبول بھی فرماتا ہے۔اللہ تعالیٰ کرے کہ ہم اس کی رضا کو حاصل کرنے والے بنیں۔نماز کے بعد میں ایک جنازہ غائب بھی پڑھاؤں گا جو مکرم ملک سلیم لطیف صاحب ایڈووکیٹ۔صدر جماعت ننکانہ صاحب (پاکستان) کا ہے۔یہ مکرم ملک محمد شفیع صاحب کے بیٹے تھے۔70 سال ان کی عمر تھی۔گل 30 مارچ 2017ء صبح تقریباً 9 بجے گھر سے اپنے بیٹے کے ہمراہ کچہری جاتے ہوئے راستہ میں ایک معاند احمدیت نے فائرنگ کر کے انہیں شہید کر دیا۔اِنَّا لِله وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔شہید مرحوم کے خاندان میں احمدیت کا نفوذ شہید مرحوم کے والد مکرم محمد شفیع صاحب کے دوماموں حضرت حافظ نبی بخش صاحب صحابی حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور حضرت جمال دین صاحب صحابی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ سے ہوا تھا۔ان کا تعلق چک سعد اللہ نزد قادیان سے تھا۔شہید مرحوم کے والد صاحب پیدائشی احمدی تھے۔پارٹیشن سے قبل ہی ننکانہ صاحب آکر آباد ہو گئے۔شہید مرحوم 1948ء میں ننکانہ صاحب میں پیدا ہوئے۔ابتدائی تعلیم ننکانہ صاحب میں حاصل کی اور لاہور سے ایل۔ایل۔بی کرنے کے بعد 1967ء سے بحیثیت وکیل پریکٹس کا آغاز کیا۔وقوعہ کے مطابق شہید مرحوم اپنے بیٹے محمد فرحان ایڈووکیٹ کے ہمراہ صبح 9 بجے کورٹ جانے کے لئے موٹر سائیکل پر روانہ ہوئے۔ان کا بیٹا موٹر سائیکل چلا رہا تھا۔وہاں ایک چوک بازار بیری والا ہے اس کے قریب جب یہ پہنچے تو ایک شخص نے ان کو رکنے کا اشارہ کیا۔موڑ کی وجہ سے موٹر سائیکل پہلے ہی نسبتاً آہستہ تھی۔اسی دوران مذکورہ شخص نے اپنی بندوق سے فائر کیا جو شہید مرحوم کے دائیں جانب پہلی میں لگا اور دوبارہ لوڈ کر کے پھر پشت پر فائر کیا۔شہید مرحوم موٹر سائیکل سے گر گئے۔اس دوران حملہ آور نے بیٹے پر بھی فائر کیا جو بیٹے کو نہ لگا۔اس کے بعد بھی مسلسل فائرنگ کی کوشش کرتارہا۔ان کا بیٹا جو وہاں موجود تھا وہ تو اونچی آواز میں کلمہ پڑھتا رہا لیکن لوگ جو قریب کھڑے تھے ان میں سے کسی نے آگے بڑھ کے روکنے کی کوشش نہیں کی تماشا دیکھتے رہے کیونکہ دوبارہ اس سے پھر گن لوڈ نہیں ہوئی اور فائر نہیں ہوئے تو اس پر حملہ آور فرار ہو گیا۔لیکن اسی دوران میں زخمی حالت میں شہید مرحوم شہید ہو چکے تھے۔شہید کے