خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 143
خطبات مسرور جلد 15 143 ہ مورخہ 31 مارچ 2017 اصلاح کرنے والوں کو بھی اگر شکایت کرنی ہے تو پہلے اپنی کوشش اور دعا کر لو پھر شکایت کرو آپ علیہ السلام فرماتے ہیں کہ۔۔۔۔۔ہمارا یہ مطلب نہیں ہے کہ عیب کے حامی بنو۔" اس کا یہ مطلب بھی نہیں ہے کہ عیب دیکھو اور اس کے حامی بن جاؤ کہ بڑا اچھا کیا۔اس میں عیب، نقص ہے اور کمزوریاں ہیں تو بہت اچھا ہے۔اس کا حامی نہیں بننا۔" بلکہ یہ کہ " اس کی " اشاعت اور غیبت نہ کرو۔" اس عیب کو دیکھ کر نہ پھیلاؤ۔نہ لوگوں کے سامنے بتاؤ، نہ پیچھے بتاؤ۔"کیونکہ کتاب اللہ میں جیسا آگیا ہے تو یہ گناہ ہے کہ اس کی اشاعت اور غیبت کی جاوے۔" آپ فرماتے ہیں کہ " شیخ سعدی کے دوشاگرد تھے۔ایک ان میں سے حقائق اور معارف بیان کیا کرتا تھا۔" بڑالا ئق تھا۔اس کو علم و فضل حاصل تھا۔بڑے حقائق اور معارف بیان کیا کرتا تھا " دوسر اجلا بھنا کرتا تھا۔" اس میں اتنی لیاقت نہیں تھی۔وہ اس پر جلتا بھفتا رہتا تھا یعنی ایک شاگرد تو بڑا ہو شیار تھا دوسرا کم ہو شیار اور جو کم تھا جیسا کہ میں نے کہا وہ ہوشیار کے علم پر جلتا کڑھتارہتا تھا۔" آخر پہلے نے سعدی سے بیان کیا کہ جب میں کچھ بیان کرتا ہوں تو دوسرا جلتا ہے اور حسد کرتا ہے۔" شیخ سعدی" نے جواب دیا کہ ایک نے راہ دوزخ کی اختیار کی کہ حسد کیا۔ایک تو حسد کر کے دوزخ کے رستے پر چل پڑا اور تُو نے غیبت کی۔" اب یہ بھی کوئی نیکی کی بات نہیں جو تو مجھے بتارہا ہے۔غیبت کر کے تم بھی دوزخ کے رستے کی طرف چل پڑے۔پس دونوں ہی گنہگار ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس واقعہ کو بیان فرما کر فرماتے ہیں کہ۔۔۔۔۔۔یہ سلسلہ چل نہیں سکتا جب تک رحم، دعا، ستاری اور مرحمہ آپس میں نہ ہو۔" "اس پر " (ملفوظات جلد 7 صفحہ 78-79) پس ایک طرف تو ہم یہ عہد کرتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت میں آکر ہم اپنے اندر پاک تبدیلیاں پیدا کرنے کی کوشش کریں گے۔دوسری طرف ہم اگر دنیادار معاشرے کے زیر اثر آگئے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی صفات اور احکامات کو اپنے پر لاگو کرنے کی کوشش نہیں کر رہے تو ہم اپنے عہد کو پورانہ کر کے گنہگار ہو رہے ہیں۔ہم وہ نہیں بن رہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہمیں بنانا چاہتے ہیں۔آپ ہمیں کیا دیکھنا چاہتے ہیں ؟ یہی کہ ہم آپس میں ایک دوسرے کے لئے رحم پیدا کریں۔ایک دوسرے کے لئے دعا کرنے والے ہوں۔ایک دوسرے کی ساری کرنے والے ہوں۔ایک موقع پر آپ نے فرمایا کہ : " ہماری جماعت کو چاہئے کہ کسی بھائی کا عیب دیکھ کر اس کے لئے دعا کریں۔لیکن اگر وہ دعا نہیں کرتے اور اس کو بیان کر کے ڈور سلسلہ چلاتے ہیں تو گناہ کرتے ہیں۔" فرمایا کہ کون سا ایسا عیب ہے جو کہ دُور نہیں ہو سکتا۔اس لئے ہمیشہ دعا کے ذریعہ سے دوسرے بھائی کی مدد کرنی چاہئے۔" (ملفوظات جلد 7 صفحہ 77-78) اور جب ہم اس طرح ایک دوسرے کی مدد کریں گے اور بجائے ایک دوسرے کے عیب نکالنے اور دوسروں کی پردہ دری کرنے کے ایک دوسرے کے لئے دعا کر رہے ہوں گے تو تبھی ہم وہ حقیقی جماعت بن سکتے ہیں