خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 142
خطبات مسرور جلد 15 142 مه فرمودہ مورخہ 31 مارچ 2017 دعا کرے۔نصیحت کرومان لے تو ٹھیک۔نہیں مانتا تو اس کے لئے دعا کرو۔" اور اگر دونوں باتوں سے فائدہ نہ ہو۔"نہ نصیحت سے فائدہ ہوانہ دعا سے فائدہ ہوا تو پھر کیا کرنا ہے۔فرمایا کہ پھر اسے "تو قضاء و قدر کا معاملہ سمجھے۔" یہ سمجھو بس یہی اللہ تعالیٰ کی مرضی ہے۔"جب خدا تعالیٰ نے ان کو قبول کیا ہوا ہے تو تم کو چاہئے کہ کسی کا عیب دیکھ کر سر دست جوش نہ دکھلایا جاوے۔اللہ تعالیٰ نے اسے قبول کیا، اسے توفیق دی کہ اس نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مانا، جماعت میں شامل کیا، اس برائی کی وجہ سے اس کی جتنی بدنامی تمہارے خیال میں ہونی چاہئے تھی وہ نہیں ہو رہی اور کسی رنگ میں اس کی پردہ پوشی ہو رہی ہے۔صرف تمہیں ہی اس کا علم ہوا ہے تو پھر تمہیں بھی جوش دکھانے کی کوئی ضرورت نہیں۔خاموشی سے بیٹھے رہو۔اللہ تعالیٰ خود ہی اس کی اصلاح کا کوئی ذریعہ پیدا کر دے گا۔فرمایا کہ "ممکن ہے کہ وہ درست ہو جاوے۔وہ کسی وقت درست ہو جائے گا۔پس اس سے پتا لگتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے نزدیک کسی کا احمدی ہونا اور آپ کی بیعت میں آنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے قبول کیا ہے اور جب اللہ تعالیٰ نے اسے قبول کر لیا ہے تو پھر کسی دوسرے کا حق نہیں بنتا کہ اس کے ذاتی نقائص کو تلاش کر کے ان کو پھیلایا جائے۔ٹوہ میں لگا جائے۔تجسس کیا جائے اور پھر وہ برائیاں پھیلائی جائیں یا اس کے بارے میں لوگوں کے سامنے بیزاری کا اظہار بھی کیا جائے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا۔ممکن ہے وہ درست ہو جائے۔آپ ایک جگہ بلکہ اسی تسلسل میں فرماتے ہیں کہ : "قطب اور ابدال سے بھی بعض وقت کوئی عیب سرزد ہو جاتا ہے۔" بڑے بڑے قطب اور ابدال جو ہیں ان سے بھی عیب ہو جاتے ہیں۔فرمایا کہ " بلکہ لکھا ہے الْقُطْبُ قَدْ يَزَنی کہ قطب سے بھی زنا ہو جاتا ہے۔" فرمایا: " بہت سے چور اور زانی آخر کار قطب اور ابدال بن گئے۔" آپ فرماتے ہیں "جلدی اور عجلت سے کسی کو ترک کر دینا ہمارا طریق نہیں ہے۔"جلدی اور عجلت سے کسی کو ترک کر دینا ہمارا طریق نہیں۔"کسی کا بچہ خراب ہو تو اس کی اصلاح کے لئے وہ پوری کوشش کرتا ہے۔ایسے ہی اپنے کسی بھائی کو ترک نہ کرنا چاہئے۔" جس طرح بچے کے لئے کوشش کرتے ہو اسی طرح اپنے بھائیوں کے عیبوں کو دور کرنے کے لئے بھی کوشش کرو۔کوشش بھی اور دعا بھی " بلکہ اس کی اصلاح کی پوری کوشش کرنی چاہئے۔" فرمایا " قرآن کریم کی یہ تعلیم ہر گز نہیں ہے کہ عیب دیکھ کر اسے پھیلاؤ اور دوسروں سے تذکرہ کرتے پھرو۔بلکہ وہ فرماتا ہے تَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ وَتَوَاصَوْا بِالْمَرْحَمَة (البلد: 18 ) کہ وہ صبر اور رحم سے نصیحت کرتے ہیں۔" فرمایا کہ "مرحمہ یہی ہے کہ دوسرے کے عیب دیکھ کر اسے نصیحت کی جاوے اور اس کے لئے دعا بھی کی جاوے۔" فرمایا " دعا میں بڑی تاثیر ہے اور وہ شخص بہت ہی قابل افسوس ہے کہ ایک کے عیب کو بیان تو سو مرتبہ کرتا ہے لیکن دعا ایک مرتبہ بھی نہیں کرتا۔عیب کسی کا اُس وقت بیان کرنا چاہئے جب پہلے کم از کم چالیس دن اس کے لئے رو رو کر دعا کی ہو۔" بیان کرنے سے یہ بھی مراد نہیں کہ عیب بیان کرنا چاہئے۔اس کی تشہیر کی اجازت مل گئی۔اس کا مطلب یہ نہیں ہے بلکہ مطلب یہ ہے کہ