خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 141
خطبات مسرور جلد 15 141 ہ مورخہ 31 مارچ 2017 کوئی بدی یا نقص دیکھتے ہیں جب تک اس کی اچھی طرح تشہیر نہ کر لیں " اسے پھیلا نہ دیں "ان کو کھانا ہضم نہیں ہو تا۔" فرمایا " حدیث میں آیا ہے جو اپنے بھائی کے عیب چھپاتا ہے خدا تعالیٰ اس کی پردہ پوشی کرتا ہے۔انسان کو چاہئے شوخ نہ ہو۔بے حیائی نہ کرے۔مخلوق سے بد سلوکی نہ کرے۔محبت اور نیکی سے پیش آوے۔" (ملفوظات جلد 10 صفحہ 339-340) (ماخوذ از ذکر حبیب صفحہ 57) ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مجلس میں کسی کی کمزوریوں کا ذکر ہوا کہ فلاں شخص میں یہ یہ کمزوری ہے تو آپ نے اس بات کو سن کر بات کرنے والے کو مخاطب کر کے فرمایا کہ اس کے نقائص تو تم نے بیان کر دیئے۔بڑے جوش سے اس کے نقص بیان کر رہے ہو، اس کی کمزوریاں تو تم نے گنوا دیں۔اچھا ہوتا اگر اس کی خوبیوں کا بھی ذکر کیا ہو تا۔آخر اس میں کچھ خوبیاں بھی تو ہوں گی ان کا بھی تو ذکر کرتے۔پس معاشرے کی برائیوں کو دُور کرنے اور امن اور پیار اور محبت پھیلانے کے لئے ضروری ہے کہ برائیوں کی پردہ پوشی کی جائے اور خوبیوں کو ظاہر کیا جائے۔خوبیوں کو ظاہر کرنے سے نیکیوں کی بھی تحریک پیدا ہوتی ہے۔ایک حقیقی مسلمان کا کردار یہی ہونا چاہئے کہ معاشرے میں نیکیاں پھیلائے۔صرف زبان کے مزے اور عارضی بناوٹی خوشی کے لئے یا اس خوشی کا ماحول پیدا کرنے کے لئے دوسروں کی برائیوں کی تشہیر انتہائی بڑا گناہ ہے۔مجلس میں ایک استہزاء کارنگ پیدا کر کے لوگوں کا استہزاء کرنا یہ بہت بڑا گناہ ہے جس سے ہر احمدی کو بچنا چاہئے۔ہم نے جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت میں آکر یہ عہد بیعت کیا کہ کسی طرح سے بنی نوع انسان کو تکلیف نہیں دینی، نہ ہاتھ سے، نہ زبان سے تو اس کی پابندی کرنی ضروری ہے۔زبان کے زخم بڑی دیر تک رہتے ہیں۔لوگوں کا استہزاء، ان کی پردہ دری کے اثرات بعض دفعہ ہمیشہ رہتے ہیں۔پس ہمیں بہت زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے اور اپنے بھائی کے لئے سچی ہمدردی اور خیر خواہی ہمارے دل میں ہونی چاہئے اور سچی ہمدردی اور خیر خواہی کا اظہار بھی ہو سکتا ہے جب اپنے بھائیوں کی کمزوریوں پر پردہ ڈالا جائے۔ان کی باتوں کی پردہ دری نہ کبھی مذاق میں کی جائے نہ سنجیدگی سے کی جائے۔ہاں کسی کی کمزوری دیکھ کر سچی ہمدردی کا یہ بھی تقاضا ہے کہ اس کی اصلاح کی کوشش کی جائے تاکہ وہ برائی یا کمزوری اس شخص میں سے ختم ہو جائے اور اگر اس برائی کا ماحول پر اثر قائم ہو سکتا ہے یا بد اثرات پڑ سکتے ہیں تو پھر ماحول کو بھی بچایا جا سکے اور یہی نیکی ہے اور اللہ تعالیٰ کے فضل کو جذب کرنے والی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس سلسلے میں ہم میں کیا دیکھنا چاہتے ہیں۔آپ فرماتے ہیں کہ : " چاہئے کہ جسے کمزور پاوے اسے خفیہ نصیحت کرے۔"خاموشی سے علیحدہ ہو کر اسے نصیحت کرو۔" اگر نہ مانے تو اس کے لئے (ماخوذ از ازالہ اوہام جلد 3 صفحہ 564)