خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page xvii of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page xvii

ix خلاصہ خطبات خطبات مسرور جلد 15 مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ ارشاد بھی کہ متقی انسان اس وقت بنتا ہے جب اس میں تمام خُلق موجود ہوں۔سب سے اہم بات یا خُلق جو ایک مومن کی بنیادی شرط ہے وہ سچائی پر قائم ہونا ہے اور جھوٹ سے بچنا ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے ارشادات کے حوالہ سے سچائی کی اہمیت اور اس کے تقاضوں کا تذکرہ اور اس حوالہ سے افراد جماعت کو اہم نصائح۔حال ہی میں نیشنل جیوگرافک کے ایک رسالہ میں شائع ہونے والے ایک مضمون کے حوالہ سے کہ لوگ جھوٹ کیوں بولتے ہیں بعض وجوہات کا تذکرہ اور ان پر تبصرہ۔اور اسلامی تعلیمات کے حوالہ سے سچائی اور قولِ سدید کو اختیار کرنے کی تاکید۔ایک اہم نیکی جو مومن کا خُلق ہونا چاہئے اور اللہ تعالیٰ کا قرب دلاتی ہے وہ عاجزی اور تکبر سے دُوری ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے ارشادات کے حوالہ سے تکبر کی مختلف صورتوں کا تذکرہ اور ان سے بچنے اور عاجزی کو اختیار کرنے کی نصائح۔خطبہ : 25 مورخہ : 23 جون بمقام: بیت الفتوح - لندن صفحہ :305-292 خلاصہ: رمضان تو ایک ٹریننگ کیمپ کے طور پر آتا ہے۔رمضان تو اللہ تعالیٰ نے اس لئے فرض کیا ہے کہ جن نیکیوں کو تم بجالار ہے ہو اس میں مزید ترقی کرو اور ہر آنے والا رمضان جب ختم ہو تو ہمیں عبادات اور نیکیوں کی نئی منزلوں اور بلندیوں پر پہنچانے والا ہو اور پھر ہم عبادتوں اور نیکیوں کے نئے اور بلند معیار قائم کرنے والے بن جائیں۔اللہ تعالیٰ تو ہم سے مستقل مزاجی کے ساتھ ان نیکیوں پر چلنے کا مطالبہ کرتا ہے۔پانچ فرض نمازوں کو ان کے وقت پر سنوار کر ادا کرنے، نماز جمعہ کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے اس کی ادائیگی میں با قاعدگی اختیار کرنے، تلاوت قرآن کریم کے التزام اور اسے سمجھ کر پڑھنے اور اس میں مذکور احکامات پر عمل کی کوشش کرنے اور دیگر اخلاق اور نیکیوں کو اختیار کرنے سے متعلق قرآن و حدیث اور حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے ارشادات کے حوالہ سے اہم نصائح ہم میں سے ہر ایک کو رمضان میں سے یہ عہد کرتے ہوئے نکلنا چاہئے کہ جو باتیں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کہیں اور جو باتیں ہمیں کھول کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بیان فرمائیں ان کو ہم ہمیشہ سامنے رکھتے ہوئے ان کے مطابق اپنی زندگیاں گزارنے کی کوشش کریں۔مکرمہ مشتاق زہرہ صاحبہ آف ربوہ اہلیہ مکرم چوہدری ظہور احمد باجوہ صاحب (مرحوم) اور مکرم عبدہ بکر صاحب آف مصر کا ذکر خیر۔خطبہ: 26 مورخه : 30 جون بمقام: بیت الفتوح لندن صفحہ : 316-306 خلاصہ: رمضان اپنی بیشمار برکتیں لے کر آتا ہے اور جو لوگ اس کی حقیقت کو سمجھتے ہیں وہ اس سے فیض بھی پاتے ہیں۔ہر شخص کو خود بھی اپنے لئے دعا کرنی چاہئے کہ اب ہمارے قدم پیچھے نہ ہٹیں بلکہ آگے بڑھتے رہیں اور کوشش بھی کرنی چاہئے کہ جہاں تک حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی میں ہم پہنچے ہیں ان سے قدم کبھی پیچھے نہ ہٹیں۔اگر ہم نے حقیقی زندگی حاصل کرنی ہے تو پھر سال کے باقی گیارہ مہینوں میں بھی خدا تعالیٰ کو یادرکھنا ضروری ہے۔ایک مومن کا کام ہے کہ اپنے اس ذاتی دائرے سے باہر نکل کر جماعت کے لئے بھی بہت دعا کریں۔مسلم اللہ کے لئے ، اپنے اپنے ملکوں کے لئے بھی دعا کریں۔دنیا پر جو بھیانک خطرات منڈلا رہے ہیں ان کے ڈور ہونے کے لئے بھی دعا کریں۔پاکستان اور الجزائر میں احمدیت کی شدید مخالفت اور معاندین کے بد ارادوں اور مکروں کے حوالہ سے افراد جماعت کو خاص طور پر دعاؤں کی طرف توجہ دینے کی تاکید جماعت احمدیہ کی تاریخ بتاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر موقع پر جماعت کو اپنی پناہ میں لیا ہے اور دشمن ناکام و نامراد ہی ہوا ہے۔پس اگر ضرورت ہے تو اس بات کی کہ ہم اللہ تعالیٰ کے مضبوط قلعہ میں پناہ لینے کے لئے اپنی دعاؤں اور ذکر کو نہ صرف قائم رکھیں بلکہ بڑھا ئیں۔جو باہر کے ممالک میں ہیں، یورپ میں اور ترقی یافتہ ممالک میں رہتے