خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page xvi
viii خطبات مسرور جلد 15 خلاصہ خطبات لیں، اس طرح نہیں ہو گی۔خلافت کا نظام جو خوف کو امن میں بدلنے والا نظام ہے۔جو اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرتے ہوئے تمکنت دین کا ذریعہ بنے والا ہے۔اس کا تعلق اس ذریعہ سے قائم ہونے والی خلافت سے ہے جس نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے بتائے ہوئے طریق کے مطابق عمل میں آنا ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں سورۃ جمعہ میں فرمایا کہ واخرین منھم لما يلحقوا بھیم اور انہی میں سے دوسروں کی طرف بھی مبعوث کیا جو ابھی ان سے نہیں ملے۔آنحضرت صلی لام کے عاشق صادق کے ذریعہ جاری نظام کے علاوہ کون ہے جو آج ایمان کو دنیا میں قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔جو امن، پیار اور محبت کے ساتھ اسلام کا پیغام دنیا میں پھیلا رہا ہے۔ایمانوں کو دنیا میں قائم کرنے کے لئے کوشش کر رہا ہے۔کفر و الحاد کے اس دور میں یہی حضرت مسیح موعودؓ کی جماعت کا کام ہے جسے ہمیں کرنا چاہئے اور کر رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود سے یہ وعدہ فرمایا تھا کہ آپ کے بعد قدرت ثانیہ جو کہ خلافت ہے اس کے ذریعہ پھر اللہ تعالیٰ آپ کے مشن کی تکمیل کرے گا اور اسلام کو دوبارہ غلبہ عطا فرمائے گا اور ماننے والوں کی تسکین کے سامان بھی کرے گا۔پس مشکلات بھی آئیں گی، ابتلاء بھی آئیں گے لیکن آخری فتح انشاء اللہ جماعت احمدیہ کی ہے۔اور حضرت مسیح موعود کے ذریعہ سے جاری ہونے والا نظام خلافت ہی وہ حقیقی نظام ہے جس کے ساتھ ترقیات وابستہ ہیں اور دنیا کی امن و سلامتی بھی وابستہ ہے۔عارضی روکوں کے باوجود اسلام کا غلبہ انشاء اللہ تعالیٰ حضرت مسیح موعود کے ذریعہ اور آپ کے بعد جاری نظام خلافت کے ذریعہ ہی ہونا ہے۔مخالفین چاہیں جتنا مرضی زور لگا لیں ان کے حصہ میں نامرادی اور ناکامی ہی ہے۔مکرم چوہدری حمید احمد صاحب ابن مکرم چوہدری محمد سلیمان اختر صاحب (آف یوکے ) کا ذکر خیر۔خطبہ: 22 مورخہ 02 جون الله بمقام: بیت الفتوح لندن صفحہ:261-250 خلاصہ: قرآن مجید، احادیث نبویہ صلی یہ کم اور حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کے ارشادات کے حوالہ سے ماہ رمضان کی فضیلت، اس کی غرض وغایت، تقویٰ کے حصول، اس کے مراتب اور تقاضوں کا بصیرت افروز تذکرہ اور اس حوالہ سے افراد جماعت کو نہایت اہم نصائح مکرم خواجہ احمد حسین صاحب درویش قادیان کا ذکر خیر۔خطبہ: 23 مورخہ :09جون بمقام: بیت الفتوح لندن 262-277: خلاصہ: انسان کے متقی ہونے کے لئے صرف اتناہی کافی نہیں کہ وہ عبادت کرنے والا ہو یا صرف حقوق اللہ کی ادائیگی کر رہا ہو بلکہ متقی وہ ہے جس کا اخلاقی معیار بھی اعلیٰ ہو ، اور وہ اپنے اخلاق سے دوسروں پر اپنی نیکی اور تقویٰ کا اثر قائم کرے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مختلف ارشادات کے حوالہ سے اعلیٰ اخلاق کو اپنانے کی اہمیت اور اس بارہ میں اہم نصائح۔حقیقی توبہ کی تین بنیادی شرائط کا تذکرہ۔آجکل بھی بیشمار لوگ جو احمدیت میں داخل ہوتے ہیں کسی نہ کسی احمدی کے اخلاق سے متاثر ہو کر یا مجموعی طور پر جماعت کے اخلاق سے متاثر ہو کر احمدی ہو رہے ہوتے ہیں۔پس ہر احمدی کو اس بات پر نظر رکھنی چاہئے کہ اخلاق صرف اسے تقویٰ میں بڑھانے کے لئے نہیں ہیں بلکہ ایک دینی فریضہ ہیں اور دوسروں کی اصلاح کا ذریعہ بھی ہیں۔اس لئے ہر احمدی کو اپنے اخلاق پہ نظر رکھنی چاہئے۔مکرم لطف الرحمن محمود صاحب (امریکہ ) ابن مکرم میاں عطاء الرحمن صاحب اور مکرم مرزا عمر احمد صاحب (ربوہ) ابن مکرم صاحبزادہ ڈاکٹر مرزا منور احمد صاحب کا ذکر خیر۔خطبہ:24 مورخه : 16 جون بمقام: بیت الفتوح - لندن 278-291: خلاصہ: گزشتہ خطبہ میں میں نے اخلاق کا تقویٰ سے تعلق بتایا تھا کہ تقویٰ کے لئے اخلاق ضروری ہیں اور اس بارے میں حضرت