خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 140 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 140

خطبات مسرور جلد 15 140 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 31 مارچ 2017 یہ نیک کام کیا اور قیامت کے دن پھر وہ اس کا اجر پائے گا۔اللہ تعالیٰ اس سے چشم پوشی فرمائے گا۔بلکہ اللہ تعالیٰ تو اپنے بندے پر اس حد تک مہربان ہے، اپنا سایہ رحمت اس قدر ڈالتا ہے کہ ایک روایت میں آتا ہے کہ وہ بندے سے پوچھے گا کہ فلاں کام تو نے کیا تھا تو بندہ کہے گا ہاں میرے رب میں نے کیا ہے یا کیا تھا۔اس پر اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ میں نے اس دنیا میں تیری کمزوریوں کی پردہ پوشی کی۔دنیا کو پتا نہیں چلا کہ تو نے غلط کام کئے۔اب آج قیامت کے دن بھی میں تیری پردہ پوشی کرتاہوں اور تجھے معاف کرتاہوں۔(صحيح البخاری کتاب المظالم والغضب باب قول الله تعالى الا لعنة الله على الكاذبين حديث 2441) تو اللہ تعالیٰ تو اس طرح بندے سے سلوک کرتا ہے۔پس اگر ہم نے اللہ تعالیٰ کی صفت ستاری سے فیض اٹھانا ہے تو خود بھی دوسروں کی ستاری کی ضرورت ہے۔کسی کو یہ نہیں سمجھنا چاہئے کہ میں برائیوں سے پاک ہوں اور دوسرے میں برائیاں ہیں۔یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے جس نے ہماری ستاری کی ہوئی ہے۔پس جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک موقع پر فرمایا اور ہمیں اس بات کو ہمیشہ سامنے رکھنا چاہئے۔فرمایا کہ " اصل میں انسان کی خدا تعالیٰ پر دہ پوشی کرتا ہے کیونکہ وہ ستار ہے۔بہت سے لوگوں کو خد اتعالیٰ کی ستاری نے ہی نیک بنارکھا ہے۔" بہت سے لوگوں کو خدا تعالیٰ کی ستاری نے ہی نیک بنارکھا ہے "ور نہ اگر خدا تعالیٰ ستاری نہ فرماوے تو پتالگ جاوے کہ انسان میں کیا کیا گند پوشیدہ ہیں۔" پس یہ ہے وہ بات جسے ہمیشہ سامنے رکھنا چاہئے اور اس بات کو سامنے رکھتے ہوئے جہاں انسان استغفار کرے اور اللہ تعالیٰ سے استغفار کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی مغفرت کی چادر میں لپٹنے کی کوشش کرے، اس سے مغفرت مانگے وہاں اپنے پر نظر رکھتے ہوئے دوسروں کی کمزوریوں سے بھی صرفِ نظر کرے۔اپنے گریبان میں دیکھے اور دوسروں کی کمزوریوں کو باہر نکالنے کی کوشش نہ کرے بلکہ پہلے اپنا جائزہ لے کہ میں کیا ہوں اور ہمیشہ یہ سوچے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے میری پردہ پوشی فرمائی ہے اسی طرح میں نے دوسروں کی پردہ پوشی کرنی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک موقع پر فرماتے ہیں کہ " انسان کے ایمان کا بھی کمال یہی ہے کہ تخلق باخلاق اللہ کرے۔یعنی جو جو اخلاق فاضلہ خدا (تعالی) میں ہیں اور صفات ہیں ان کی حتی المقدور اتباع کرے اور اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کے رنگ میں رنگین کرنے کی کوشش کرے۔" فرمایا کہ " مثلاً خد اتعالیٰ میں عفو ہے انسان بھی عفو کرے۔" دوسروں کو معاف کرنے کی عادت ڈالے۔" رحم ہے، حلم ہے، کرم ہے، انسان بھی رحم کرے، حلم کرے، لوگوں سے کرم کرے۔" فرمایا " خدا تعالیٰ ستار ہے انسان کو بھی ستاری کی شان سے حصہ لینا چاہئے اور اپنے بھائیوں کے عیوب اور معاصی کی پردہ پوشی کرنی چاہئے۔" عیبوں اور گناہوں کی پردہ پوشی کرنی چاہئے۔فرمایا کہ " بعض لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ جب کسی کی