خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 139
خطبات مسرور جلد 15 139 دہ مورخہ 31 مارچ 2017 پھر جب یہ باتیں جگہ جگہ لوگوں میں بیان کی جائیں تو پھر ایسے لوگ جن میں یہ برائیاں ہیں ان میں اصلاح کی بجائے ضد پیدا ہو جاتی ہے اور پھر ضد میں آکر وہ دوسروں کو بھی اپنے جیسا بنانے کی کوشش کرتے ہیں، اپنے حلقے کو وسیع کرتے جاتے ہیں۔حجاب ختم ہو جاتا ہے۔اور جب حجاب ختم ہو جائے تو اصلاح کا پہلو بھی ختم ہو جاتا ہے۔پس یہاں میں ان لوگوں کو بھی توجہ دلانا چاہتا ہوں جن کے سپر د جماعتی کام بھی ہیں خاص طور پر اصلاح کرنے والا شعبہ کہ انتہائی احتیاط سے اور ہمدردی کے جذبات رکھتے ہوئے اصلاح کے کام کریں۔کبھی کسی بھی فرد کو یہ احساس نہیں ہونا چاہئے کہ میری کمزوری کی فلاں عہدیدار کی وجہ سے پردہ دری ہوئی، تشہیر ہوئی، لوگوں کو پتالگا۔اگر یہ احساس پید اہو جائے تو پھر اس کا رد عمل بہت زیادہ سخت ہوتا ہے۔ایسے لوگ جن کے سپر د اصلاح کا یہ کام ہے وہ جہاں لوگوں کی پردہ دری کر کے معاشرے میں بگاڑ پیدا کر رہے ہوتے ہیں وہاں اللہ تعالیٰ کی ناراضگی بھی مول لے رہے ہوتے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرمائے گا میں نے تو تمہیں جماعتی خدمت کا موقع دیا تھا اس لئے کہ میری صفات کو زیادہ سے زیادہ اپناؤ۔لیکن یہاں تو تم میری ستاری کی صفت سے الٹ چل کر بے چینیاں اور فساد پیدا کرنے کا موجب بن رہے ہو۔اللہ تعالیٰ ستاری کو کتنا پسند کرتا ہے اور ستاری کرنے والے کو کس قدر نوازتا ہے۔اس بارے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک موقع پر فرمایا کہ مسلمان مسلمان کا بھائی ہے۔وہ اس پر ظلم نہیں کرتا اور نہ اسے یکا و تنہا چھوڑتا ہے۔مسلمانوں کی یہ کس قدر بد قسمتی ہے کہ آجکل ہم دیکھتے ہیں کہ سب سے زیادہ مسلمان ہیں جو مسلمانوں پر ظلم کر رہے ہیں۔ایک دوسرے کی گردنیں کاٹ رہے ہیں اور کوئی نہیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد پر توجہ دے۔بہر حال پھر آپ نے آگے یہ بھی فرمایا کہ جو شخص اپنے بھائی کی حاجت روائی میں لگارہتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی حاجات پوری کرتا ہے اور جس نے کسی مسلمان کی تکلیف دور کی اللہ تعالیٰ قیامت کے دن مصائب میں سے اس کی ایک مصیبت کم کر دے گا اور جو کسی مسلمان کی ستاری کرتا ہے اللہ تعالیٰ قیامت کے روز اس کی ستاری فرمائے گا۔(صحیح البخاری کتاب المظالم والغضب باب لا يظلم المسلم المسلم ولا يسلمه حديث 2442) پس اس رحیم اور کریم خدا کے رحم اور کرم کو جذب کرنے کے لئے ستاری اور پردہ پوشی انتہائی ضروری ہے۔پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی ایک موقع پر فرمایا کہ کوئی بندہ دوسرے بندے کی اس دنیا میں پردہ پوشی نہیں کرتا مگر اللہ تعالیٰ قیامت کے روز اس کی پردہ پوشی فرمائے گا۔(صحیح مسلم كتاب البر والصلة والآدب باب بشارة من ستر الله تعالى۔۔۔الخ حدیث 6595) یعنی اللہ تعالی پردہ پوشی کرنے والے کو بغیر نوازے، بغیر اجر کے نہیں چھوڑتا۔کسی نے اگر اللہ تعالیٰ کے کسی بندے کی پردہ پوشی کی تو پھر وہ اس کے کھاتے میں لکھی گئی۔اس کے حساب میں لکھی گئی کہ میرے بندے نے