خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 138
خطبات مسرور جلد 15 138 ہ مورخہ 31 مارچ 2017 بڑے خوف کا مقام ہے اور ہر وقت استغفار کرتے رہنے کی طرف توجہ کی ضرورت ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک موقع پر فرمایا کہ جس نے اپنے مسلمان بھائی کے کسی عیب کی پردہ پوشی کی اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے عیب کو ڈھانپ دے گا۔اس کی پردہ پوشی فرمائے گا۔اسے ڈھانپ دے گا اور ستاری فرمائے گا۔اور جو اپنے کسی مسلمان بھائی کی پردہ دری کرتا ہے۔اس کی برائیاں کرتا ہے۔اس کی برائی کو دیکھ کر لوگوں کو بتاتا پھرتا ہے۔اللہ تعالیٰ اس کے عیب اور ننگ کو اسی طرح ظاہر کرے گا کہ اس کے گھر میں اس کو (سنن ابن ماجه كتاب الحدود باب الستر على المؤمن۔۔۔الخ حديث 2546) رسوا کر دے گا۔پس یہ بڑا سخت انذار ہے۔خوف کا مقام ہے۔اللہ تعالیٰ کے فضل کو جذب کرنے کے لئے ہمیشہ دوسروں کے عیب دیکھنے کی بجائے اپنے پر نظر رکھنی چاہئے۔تبھی ہم اللہ تعالی کے رحم اور فضل کو جذب کر سکتے ہیں۔لوگ کہہ دیتے ہیں کہ اگر ہم کسی میں برائی دیکھ کر ظاہر نہیں کریں گے تو اصلاح کس طرح ہو گی۔ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے کہ اگر کسی کی کوئی برائی نظام جماعت کو نقصان پہنچانے کا ذریعہ بن رہی ہے یا معاشرے کے ایک طبقہ کو بھی اپنی لپیٹ میں لے کر خراب کر رہی ہے تو پھر اصلاح کے لئے جو لوگ مقرر ہیں، امیر جماعت ہے، جماعت کے اندر صدر جماعت ہے، ان تک بات پہنچا دیں یا مجھے لکھ دیں تاکہ اصلاح کی طرف توجہ ہو۔اللہ تعالیٰ بھی نہیں چاہتا کہ اس کی بنائی ہوئی جماعت کا نظام خراب ہو۔وہ نہیں چاہتا کہ ایک انفرادی برائی معاشرے کی عام برائی بن جائے۔اس لئے اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کے ننگ ظاہر کر دیتا ہے۔جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا جو اس بات پر قائم رہتے ہیں اور ضد کرتے ہیں کہ جو گناہ انہوں نے کیا ہے یا غلطیاں کی ہیں ان کو پھیلانا ہے اور ظاہر بھی کرنا ہے یا کرتے چلے جانا ہے۔جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ انسان کے گناہوں اور خطاؤں کو اللہ تعالیٰ دیکھتا ہے لیکن اپنی صفت کے باعث خطا کاریوں کو اس وقت تک جبتک کہ اعتدال کی حد سے نہ گزر جائے ڈھانپتا ہے۔پس جب انسان خود ہی اپنے آپ کو ظاہر کر دے اور اعتدال کی حدوں سے باہر نکلنے لگے تو پھر اللہ تعالیٰ کی پکڑ کی صفت بھی کام کرتی ہے۔اور پھر اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو اس دنیا میں بھی پکڑتا ہے اور اگلے جہان کی بھی سزا ہے۔لیکن کسی کی برائی دیکھ کر اس کی تشہیر کرنا اس کو پھیلانا بہر حال منع ہے کیونکہ اس سے برائیاں بجائے ختم ہونے کے پھیلتی ہیں۔اس بارے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تو لوگوں کی کمزوریوں کے پیچھے پڑے گا تو انہیں بگاڑ دے گا۔(سنن ابی داؤد كتاب الادب باب فى التجسس حديث 4888) کمزوریوں کے پیچھے پڑنے کا مطلب یہ ہے کہ ان کو جگہ جگہ بیان کرنا، تجسس کر کے ان کی کمزوریوں کی تلاش کرنا۔اگر انسان اس طرح کرے تو ان لوگوں کو بگاڑے گا اور معاشرے کے امن کو بھی خراب کرے گا اور