خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 137
خطبات مسرور جلد 15 137 جو سعدی نے کہا ہے " خدا داند و بپوشد و همسایه نداند و بخر وشد " نه فرمودہ مورخہ 31 مارچ 2017 (ملفوظات جلد 7 صفحہ 178) کہ خدا تعالیٰ تو جانتے ہوئے بھی پردہ پوشی کرتا ہے لیکن ہمسایہ تھوڑا سا علم ہو جائے تو اس کمزوری کی (ملفوظات جلد 7 صفحہ 179) مشہوری کرنے لگ جاتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے سعدی کے شعر کے مصرعہ کا جو یہ حوالہ دیا ہے اس کی تشریح ایک جگہ اس طرح بھی فرمائی ہے کہ " خدا تعالی کی ساری ایسی ہے کہ وہ انسان کے گناہ اور خطاؤں کو دیکھتا ہے لیکن اپنی اس صفت کے باعث اس کی غلط کاریوں کو اس وقت تک جب تک کہ وہ اعتدال کی حد سے نہ گزر جاوے ڈھانپتا ہے۔لیکن انسان کسی دوسرے کی غلطی دیکھتا بھی نہیں اور شور مچاتا ہے۔" ( ملفوظات جلد 1 صفحہ 299-300) آپ فرماتے ہیں۔" پس غور کرو کہ اس کے کرم اور رحم کی کیسی عظیم الشان صفت ہے۔" آپ اللہ تعالیٰ کے بارے میں فرماتے ہیں " کہ اگر وہ " یعنی اللہ تعالیٰ " مواخذہ پر آئے تو سب کو تباہ کر دے لیکن اس کا کرم اور رحم بہت ہی وسیع ہے اور اس کے غضب پر سبقت رکھتا ہے۔" پس اگر اس بات کو ہم سمجھ لیں اور اپنے ساتھیوں، اپنے بھائیوں، اپنے سے واسطہ پڑنے والوں کے معاملات میں ہر وقت ٹوہ نہ لگاتے پھریں، تجسس نہ کریں، ان کی کمزوریوں کو تلاش نہ کرتے پھریں تو ایک پیار اور محبت کرنے والا اور پر امن معاشرہ قائم ہو سکتا ہے۔ہم میں سے بہت سے ایسے ہیں جو پردہ پوشی کی بجائے دوسروں کے عیب ظاہر کرنے کی کوشش میں ہوتے ہیں۔اور جب ان کے اپنے متعلق کوئی بات کر دے یا کسی ذریعہ سے ان کو یہ پتا چل جائے کہ فلاں شخص نے میرے متعلق اس طرح بات کی تھی تو سیخ پا ہو جاتے ہیں۔انتہائی غصہ میں آکر مرنے مارنے پر آمادہ ہو جاتے ہیں۔لیکن جب یہ خود کسی دوسرے کے متعلق کہہ رہے ہوں تو اس وقت کہتے ہیں کہ یہ تو معمولی بات تھی ہم نے تو یو نہی کہہ دی۔ہمیں ہر وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان اپنے سامنے رکھنا چاہئے کہ جو اپنے لئے چاہتے ہو وہی اپنے بھائی کے لئے چاہو۔(صحيح البخاری کتاب الایمان باب من الايمان ان يحب لاخيه ما يحب لنفسه حديث 13) پس اگر اپنے لئے پردہ پوشی پسند ہے تو دوسروں کے لئے بھی وہی احساسات ہونے چاہئیں اور یہی وہ سنہری اصول ہے جو معاشرے کے امن کے لئے بھی ضروری ہے۔پس عیب دیکھ کر بجائے اس عیب کو پھیلانے کے ہر ایک کو استغفار کرنی چاہئے۔اللہ تعالیٰ بے نیاز ہے اور اس بات سے ڈرنا چاہئے کہ ہمارے اندر بھی جو بے شمار عیب ہیں وہ کہیں ظاہر نہ ہو جائیں۔اگر نیک نیت سے انسان دوسروں کے عیبوں کی پردہ پوشی کرے تو اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو حاصل کرنے والا بنتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اس بات کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے کہ اگر خدا تعالیٰ مؤاخذہ پر آئے حساب کتاب لینے لگے تو سب کو تباہ کر دے۔پس