خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 136 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 136

خطبات مسرور جلد 15 136 13 ودہ مورخہ 31 مارچ 2017 خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 31 مارچ2017ء بمطابق 31 امان 1396 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح، مورڈن، لندن، یوکے تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: دنیا میں کوئی انسان نہیں جو ہر عیب سے ہر لحاظ سے پاک ہو۔اللہ تعالیٰ کی صفت ستار ہے جو ہماری پردہ پوشی کرتی ہے۔اگر انسان کی غلطیوں کی کوتاہیوں کی، گناہوں کی پردہ دری ہونے لگے تو کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہ رہے۔اللہ تعالیٰ جو ستار العیوب ہے اور غفار الذنوب ہے اس نے ہمیں یہ دعا بھی ہم پر احسان کرتے ہوئے سکھائی کہ تم جہاں اپنی غلطیوں اور کو تاہیوں سے بچنے کی کوشش کرو وہاں استغفار بھی کیا کرو تو میں تمہارے گناہوں کو بھی معاف کروں گا۔تمہاری پردہ پوشی کروں گا۔تمہاری دعاؤں کو قبول کروں گا۔ہر ایک کی بہت ساری باتوں کی عمومی پردہ پوشی تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اللہ تعالیٰ کی مغفرت خاص طور پر ان لوگوں کو بھی اپنی چادروں میں پیٹتی ہے جو استغفار کرنے والے ہیں۔غفر کا مطلب بھی چھپانا اور ڈھانکنا ہوتا ہے اور یہی مطلب کم و بیش ستر کا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک جگہ فرماتے ہیں کہ " اسلام نے جو خدا پیش کیا ہے اور مسلمانوں نے جس خدا کو مانا ہے وہ رحیم، کریم، حلیم، تو اب اور غفار ہے۔جو شخص سچی توبہ کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کرتا ہے اور اس کے گناہ بخش دیتا ہے۔" فرمایا کہ "لیکن دنیا میں خواہ حقیقی بھائی بھی ہو یا کوئی اور قریبی عزیز اور رشتہ دار ہو وہ جب ایک مرتبہ قصور دیکھ لیتا ہے پھر وہ اس سے خواہ باز بھی آجاوے " یعنی قصور کرنے والا باز بھی آجاوے "مگر اسے عیبی ہی سمجھتا ہے۔" پس دنیا والے اگر کوئی شخص گناہ اور کسی عیب کو چھوڑ بھی دے تب بھی اسے عیبی اور شک کی نظر سے دیکھنے والے ہیں۔آپ نے فرمایا لیکن اللہ تعالیٰ کیسا کریم ہے کہ انسان ہزاروں عیب کر کے بھی رجوع کرتا ہے تو بخش دیتا ہے۔" فرمایا" دنیا میں کوئی انسان ایسا نہیں ہے بجز پیغمبروں کے (جو خدا تعالیٰ کے رنگ میں رنگے جاتے ہیں۔) جو چشم پوشی سے اس قدر کام لے۔" یعنی سوائے نبیوں کے جو اس قدر چشم پوشی کرے جتنی خدا تعالیٰ کرتا ہے۔خدا تعالیٰ کے بعد نبی ہیں جو اتنا کر سکتے ہیں اور ان کے علاوہ کوئی نہیں کرتا بلکہ عام طور پر تو یہ حالت ہے