خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 132 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 132

خطبات مسرور جلد 15 132 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 24 مارچ 2017 جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مکان کے ایک حصہ میں رہتے تھے بیان کرتے ہیں کہ طاعون کی وبا پھیلنے کے دنوں میں جب ایک ایک دن میں بیشمار لوگ اس کا شکار ہو رہے تھے اور موت کے منہ میں جارہے تھے۔مولوی عبد الکریم صاحب کہتے ہیں کہ میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دعا کرتے ہوئے سنا جسے سن کر میں حیران رہ گیا۔حضرت مولوی صاحب فرماتے ہیں کہ اس دعا میں آپ کی آواز حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی آواز میں اس قدر درد اور سوزش تھی کہ سننے والوں کا پتہ پانی ہوتا تھا۔سن کے بھی عجیب جذباتی کیفیت طاری ہو جاتی تھی۔اور آپ اس طرح پر آستانہ الہی پر گریہ وزاری کرتے تھے اس طرح رور ہے تھے اور ایسی تکلیف سے آپ کی آواز نکل رہی تھی جیسے کوئی عورت دردزہ سے بیقرار ہو۔مولوی صاحب کہتے ہیں کہ میں نے غور سے سنا تو آپ مخلوق الہی کے لئے طاعون کے عذاب سے نجات کے لئے دعا کرتے تھے کہ الہی اگر یہ لوگ طاعون کے عذاب سے ہلاک ہو جائیں گے تو پھر تیری عبادت کون کرے گا۔(ماخوذ از سیرت طیبه از حضرت مرزا بشیر احمد صاحب صفحہ 54) پس غور کریں کہ ایک پیشگوئی کے مطابق مخالفوں پر یہ عذاب آرہا ہے لیکن آپ اس کے دُور ہونے کی دعا مانگ رہے ہیں اور اس عذاب کے ملنے کی وجہ سے عین ممکن ہے بلکہ مخالفین نے شور بھی مچانا تھا۔آپ کی پیشگوئی مشکوک ہو سکتی تھی۔لیکن بنی نوع انسان کی ہمدردی نے اس کی پرواہ نہیں کی اور دعا یہ کرتے ہیں کہ ان کو عذاب سے بچالے اور ایمان کی سلامتی کے لئے کوئی دوسرا راستہ دکھا دے۔آپ کے مخالف بھی کبھی یہ نہیں کہہ سکتے کہ آپ نے ہمدردی کے موقع پر ان سے ہمدردی نہیں کی۔اس کے بیشمار واقعات آپ کی زندگی میں ملتے ہیں۔ایک واقعہ بیان کرتا ہوں۔جب منارة المسیح کی تعمیر شروع ہونے لگی تو ہندوؤں نے شور مچایا کہ اس سے ہمارے گھروں کی بے پردگی ہو گی۔اس پر حکومت کی طرف سے ایک مجسٹریٹ تحقیق کے لئے آیا۔اس کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تمام تفصیل بیان کی۔بتایا کہ یہ تو ایک نشان کے طور پر ہے۔اس پر روشنی لگائی جائے گی۔علاقہ روشن ہو گا۔بے پردگی بالکل نہیں ہو گی۔اور اگر ان کی بے پردگی ہے تو ہمارے گھروں کی بھی ہو گی۔تو یہ بالکل غلط تأثر ہے کہ بے پردگی ہو گی۔یہ سب فضول عذر ہیں۔مجسٹریٹ کے ساتھ وہاں کے ایک ہند ولالہ بڈھا مل بھی تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ یہ یہاں رہتے ہیں۔قادیان میں ہمارے ہمسائے ہیں۔اس شہر کے رہنے والے ہیں۔ان کو پتا ہے کہ میں نے ہمیشہ ہمسایوں کا اور مخلوق کا خیال رکھا ہے۔یہ لالہ بڈھا مل آپ کے ساتھ ہیں۔ان سے پوچھیں کہ کبھی کوئی ایک ایسا موقع بھی آیا ہے جب ان کو میری مدد کی ضرورت ہوئی اور میں نے اس میں کوئی کمی کی ہو یا کسی بھی قسم کا فائدہ انہیں پہنچانے میں میری طرف سے کبھی روک ہوئی ہو۔اور پھر ان سے یہ بھی