خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 131
خطبات مسرور جلد 15 131 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 24 مارچ2017 عقائد کا دشمن ہوں جن سے سچائی کا خون ہوتا ہے۔انسان کی ہمدردی میر افرض ہے اور جھوٹ اور شرک اور ظلم اور ہر ایک بد عملی اور نا انصافی اور بد اخلاقی سے بیزاری میرا اصول۔" (اربعین، روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 344) پھر آپ ایک جگہ مزید وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ " ظاہر ہے کہ ہر ایک چیز اپنے نوع سے محبت کرتی ہے۔" جو اس کی جنس ہو، قسم ہو اسی سے محبت کرتی ہے " یہاں تک کہ چیونٹیاں بھی " چیونٹیوں سے "اگر کوئی خود غرضی حائل نہ ہو۔پس جو شخص کہ خدا تعالیٰ کی طرف بلاتا ہے اس کا فرض ہے۔" فرمایا کہ جو شخص کہ خدا تعالیٰ کی طرف بلاتا ہے " آپ خدا تعالیٰ کی طرف بلا رہے ہیں " اس کا فرض ہے " کہ سب سے زیادہ محبت کرے۔سو میں نوع انسان سے سب سے زیادہ محبت کرتا ہوں۔ہاں ان کی بد عملیوں اور ہر ایک قسم کے ظلم اور فسق اور بغاوت کا دشمن ہوں۔کسی کی ذات کا دشمن نہیں۔اس لئے وہ خزانہ جو مجھے ملا ہے جو بہشت کے تمام خزانوں اور نعمتوں کی کنجی ہے وہ جوش محبت سے نوع انسان کے سامنے پیش کرتا ہوں اور یہ امر کہ وہ مال جو مجھے ملا ہے وہ حقیقت میں از قسم ہیرا اور سونا اور چاندی ہے کوئی کھوٹی چیزیں نہیں ہیں بڑی آسانی سے دریافت ہو سکتا ہے اور وہ یہ کہ ان تمام دراہم اور دینار اور جواہرات پر سلطانی سکہ کا نشان ہے۔" یعنی سلطانی بادشاہ کے سکہ کا نشان ہے۔کون سا بادشاہ؟ " یعنی وہ آسمانی گواہیاں میرے پاس ہیں جو کسی دوسرے کے پاس نہیں ہیں۔اللہ تعالیٰ میری تائید کرتا ہے۔میری گواہی دیتا ہے۔فرمایا کہ "مجھے بتلایا گیا ہے کہ تمام دینوں میں سے دین اسلام ہی سچا ہے۔مجھے فرمایا گیا ہے کہ تمام ہدایتوں میں سے صرف قرآنی ہدایت ہی صحت کے کامل درجہ پر اور انسانی ملاوٹوں سے پاک ہے۔مجھے سمجھایا گیا ہے کہ تمام رسولوں میں سے کامل تعلیم دینے والا اور اعلیٰ درجہ کی پاک اور پر حکمت تعلیم دینے والا اور انسانی کمالات کا اپنی زندگی کے ذریعہ سے اعلیٰ نمونہ دکھلانے والا صرف حضرت سید ناو مولانا محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔اور مجھے خدا کی پاک اور مطہر وحی سے اطلاع دی گئی ہے کہ میں اس کی طرف سے مسیح موعود اور مہدی معہود اور اندرونی اور بیرونی اختلافات کا حکم ہوں۔یہ جو میر ا نام مسیح اور مہدی رکھا گیا ان دونوں ناموں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے مشرف فرمایا اور پھر خدا نے اپنے بلا واسطہ مکالمہ سے یہی میر انام رکھا اور پھر زمانے کی حالت موجودہ نے تقاضا کیا کہ یہی میر انام ہو۔" (اربعین نمبر 1، روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 345) یہ باتیں صرف آپ نے لکھنے کے لئے نہیں لکھ دیں یا صرف دعوی ہی نہیں کیا کہ آپ کو بنی نوع سے محبت ہے اور سب سے زیادہ محبت ہے۔اس کے عملی اظہار بھی آپ کی زندگی میں ہمیں نظر آتے ہیں۔ایک طرف آپ کے مسیح اور مہدی ہونے کا دعویٰ ہے اور اس دعوے کی تصدیق کے لئے اللہ تعالیٰ جب لوگوں کے لئے بعض نشان ظاہر فرماتا ہے، ایسے نشان جو آفات کے رنگ میں ہیں تو آپ بے چین ہو جاتے ہیں۔چنانچہ مولوی عبد الکریم صاحب