خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 133
خطبات مسرور جلد 15 133 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 24 مارچ2017 پوچھ لیں کہ کیا کبھی ایسا ہوا ہے کہ انہیں (لالہ صاحب کو) مجھے نقصان پہنچانے کا کوئی موقع ملا ہو اور یہ نقصان پہنچانے سے رکے ہوں۔انہوں نے ہمیشہ مجھے نقصان پہنچایا اور میں نے ہمیشہ ان کو فائدہ پہنچایا۔اس وقت لالہ صاحب وہاں مجسٹریٹ کے ساتھ تھے ان کو جرات نہیں ہوئی کہ اس بات کا انکار کریں بلکہ شرم اور ندامت کا اظہار تھا۔(ماخوذ از سیرت طیبه از حضرت مرزا بشیر احمد صاحب صفحہ 61 تا 63) پس یہ تھے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے نمونے کہ نقصان پہنچانے والوں کو بھی ہمدردی مخلوق کے تحت فائدہ پہنچایا۔مولوی محمد حسین بٹالوی صاحب جنہوں نے مخالفت کی انتہا کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر کفر کا فتویٰ لگایا اور دجال اور ضال قرار دیا، نعوذ باللہ۔سارے ملک میں آپ کے خلاف نفرت اور دشمنی کی آگ بھڑ کائی لیکن مقدمے میں جب آپ کے وکیل نے مولوی محمد حسین کے خاندان کے بارے میں بعض طعن آمیز سوالات کرنے چاہے تو آپ علیہ السلام نے سختی سے روک دیا۔وکیل مولوی فضل دین صاحب غیر احمدی تھے۔وہ کہا کرتے تھے کہ مرزا صاحب عجیب انسان ہیں، عجیب اخلاق کے مالک ہیں کہ ایک شخص ان کی عزّت بلکہ جان پر حملہ کرتا ہے اور اس کے جواب میں جب اس کی شہادت کو کمزور کرنے کے لئے بعض سوالات کئے جاتے ہیں تو آپ فور روک دیتے ہیں کہ میں ایسے سوالات کی اجازت نہیں دیتا۔انہی مولوی محمد حسین کے بارے میں اپنے ایک عربی شعر میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ بھی فرمایا ہے کہ قَطَعْتَ وِدَادًا قَدْ غَرَسْنَاهُ فِي الصَّبَا وَلَيْسَ فَؤَادِي فِي الْوَدَادِ يُقَصِرُ یعنی تو نے اس محبت کے درخت کو اپنے ہاتھ سے کاٹ دیا جو ہم نے جوانی کے زمانے میں اپنے دل میں نصب کیا تھا مگر میر ادل کسی صورت میں محبت کے معاملے میں کمی اور کو تاہی کرنے والا نہیں۔(ماخوذ از سیرت طیبه از حضرت مرزا بشیر احمد صاحب صفحہ 57 تا 59) بہر حال یہ تو ایک مثال ہے کہ آپ کے مشن کو ختم کرنے کے لئے بہت سارے مسلمان علماء نے کوششیں کیں۔بیشمار نام نہاد علماء نے آپ کی مخالفت کی۔آپ پر کفر کے فتوے لگائے اور اب تک لگاتے چلے آرہے ہیں۔اسی کا نتیجہ ہے کہ دنیا کے مختلف ممالک میں، مسلمان ممالک میں ہماری مخالفت ہوتی ہے۔یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم کا ہم پر اثر ہے کہ آج بھی ہم ان مخالفین کے جواب میں ان کے خلاف اخلاقی معیاروں کو نہیں چھوڑتے اور قانون کو بھی اپنے ہاتھ میں نہیں لیتے۔کاش ان لوگوں کو سمجھ آجائے کہ اس زمانے کے حکم اور عدل اور مسیح اور مہدی حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام ہی ہیں اور اسلام کی اشاعت اور توحید کا قیام اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حقیقی حکومت جو دلوں پر قائم ہونی ہے، زمینوں پر نہیں، دلوں پر قائم ہونی ہے وہ مسیح موعود کے ذریعہ سے ہی قائم ہونی ہے اور آپ کی جماعت کے ذریعہ سے ہی قائم ہوتی ہے نہ کہ کسی تلوار یا بندوق یا طاقت سے یاد ہشتگر دی پھیلانے سے اور اسلام کے نام پر مظلوموں کو قتل کرنے سے۔