خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 130 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 130

خطبات مسرور جلد 15 130 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 24 مارچ 2017 کے مقام و مر تبہ کو واضح کر کے دنیا کو آپ کے جھنڈے تلے لانا تھاوہاں حقوق العباد کی ادائیگی اور اللہ تعالیٰ کی مخلوق پر شفقت کا ادراک دلوانا اور اس پر عمل کروانا بھی تھا۔چنانچہ آپ نے شرائط بیعت میں بھی یہ شرط رکھی بلکہ دو شرائط براہ راست اس تعلق سے ہیں۔شرط نمبر 4 میں آپ نے فرمایا کہ "عام خلق اللہ کو عموماً اور مسلمانوں کو خصوصاً اپنے نفسانی جوشوں سے کسی نوع کی ناجائز تکلیف نہیں دے گا۔" بیعت کرنے والا یہ عہد کرے نہ زبان سے نہ ہاتھ سے نہ کسی اور طرح سے۔" پھر نویں شرط ہے کہ " عام خلق اللہ کی ہمدردی میں محض اللہ مشغول رہے گا اور جہاں تک بس چل سکتا ہے اپنی خدا داد طاقتوں اور نعمتوں سے بنی نوع کو فائدہ پہنچائے گا۔" (ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 564) چنانچہ اس کے مطابق اسلامی تعلیم کا ذکر کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں کہ : دین کے دو ہی کامل حصے ہیں۔ایک خدا سے محبت کرنا اور ایک بنی نوع سے اس قدر محبت کرنا کہ ان کی مصیبت کو اپنی مصیبت سمجھ لینا اور ان کے لئے دعا کرنا۔" (نسیم دعوت، روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 464) " پھر آپ فرماتے ہیں " اسلامی تعلیم کے رُو سے دین اسلام کے حصے صرف دو ہیں۔یا یوں کہہ سکتے ہیں کہ یہ تعلیم دو بڑے مقاصد پر مشتمل ہے۔" آپ فرماتے ہیں کہ " اوّل یہ کہ " ایک خدا کو جاننا جیسا کہ وہ فی الواقعہ موجود ہے اور اس سے محبت کرنا اور اس کی سچی اطاعت میں اپنے وجود کو لگانا جیسا کہ شرط اطاعت و محبت ہے۔" پھر فرمایا کہ " دوسرا مقصد یہ ہے کہ اس کے بندوں کی خدمت اور ہمد ردی میں اپنے تمام قوی کو خرچ کرنا۔" تمام تر طاقتیں اور استعدادیں اور صلاحیتوں کو خرچ کرنا اور بادشاہ سے لے کر ادنی انسان تک جو احسان کرنے والا ہو شکر گزاری اور احسان کے ساتھ معاوضہ کرنا۔" (تحفہ قیصریہ ، روحانی خزائن جلد 12 صفحہ 281) پس یہ ہے وہ تعلیم جو خدا تعالیٰ کی محبت کے بعد مخلوق سے معاملہ کرنے کی ہے۔یا یوں کہہ سکتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کی محبت کی وجہ سے اس کی مخلوق کی ادائیگی کی طرف توجہ دلاتی ہے۔اس بارے میں آپ کی اپنی حالت اور عمل کیا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اپنی حالت اس بارے میں کیا تھی ؟ آپ کس طرح عمل فرماتے تھے ؟ اس کی وضاحت کرتے ہوئے ایک جگہ آپ فرماتے ہیں: "میں تمام مسلمانوں اور عیسائیوں اور ہندوؤں اور آریوں پر یہ بات ظاہر کرتا ہوں کہ دنیا میں کوئی میرا دشمن نہیں ہے۔" یعنی میں کسی کو بھی، ان مخالفت کرنے والوں کو بھی دشمن نہیں سمجھتا۔فرمایا " میں بنی نوع سے ایسی محبت کرتا ہوں کہ جیسے والدہ مہربان اپنے بچوں سے بلکہ اس سے بڑھ کر۔" فرمایا کہ "میں صرف ان باطل