خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 129
خطبات مسرور جلد 15 129 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 24 مارچ 2017 " مرزا صاحب کی رحلت نے ان کے بعض معتقدات سے شدید اختلاف کے باوجود ہمیشہ کی مفارقت پر مسلمانوں کو ہاں روشن خیال مسلمانوں کو محسوس کرا دیا ہے کہ ان کا ایک بڑا شخص اُن سے جدا ہو گیا ہے اور اس کے ساتھ ہی مخالفین اسلام کے مقابلہ پر اسلام کی اس شاندار مدافعت کا بھی جو اس کی ذات کے ساتھ وابستہ تھی خاتمہ ہو گیا۔" پھر کہتا ہے "مرزا صاحب کے لٹریچر کی قدر و عظمت آج جبکہ وہ اپنا کام پورا کر چکا ہے ہمیں دل سے تسلیم کرنی "لکھتا ہے کہ " آئندہ ہماری مدافعت کا سلسلہ خواہ کسی درجہ تک وسیع ہو جائے " دفاع جو اسلام کا دفاع ہے کسی درجہ تک وسیع ہو جائے نا ممکن ہے کہ مرزا صاحب کی تحریریں نظر انداز کی جاسکیں۔" ( بحوالہ سیرت طیبه از حضرت مرزا بشیر احمد صاحب صفحہ 45-46) ان تحریروں کے بغیر اسلام کا دفاع ممکن ہی نہیں۔پس یہ سب کچھ جو آپ نے کیا تو اسلام کو اللہ تعالیٰ کا آخری دین اور کامل اور مکمل دین ثابت کرنے کے لئے کیا۔اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عشق کی وجہ سے آپ کے مقام کا لوہا منوانے کے لئے کیا۔دنیا کو بتانے کے لئے کیا کہ اصل مقام آپ کا ہی ہے۔تمام دنیا کو اور دنیا کے مذاہب پر یہ واضح کیا کہ دین محمد جیسا کوئی دین نہیں ہے۔اعتراض کرنے والے آپ کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے عشق و محبت کے اظہار کو تو پڑھیں، اس پر غور کریں ورنہ اعتراض برائے اعتراض تو جہالت کی نشانی ہے۔آپ ایک وفاشعار شاگرد اور ایک احسانمند خادم کی طرح ہمیشہ فرماتے تھے کہ یہ سب کچھ مجھے میرے آقا حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل اور آپ کی پیروی سے ہی ملا ہے۔چنانچہ اس کا اظہار کرتے ہوئے آپ ایک جگہ فرماتے ہیں کہ: "میں اسی "خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ جیسا کہ اس نے ابراہیم سے مکالمہ مخاطبہ کیا اور پھر اسحاق سے اور اسماعیل سے اور یعقوب سے اور یوسف سے اور موسیٰ سے اور مسیح ابن مریم سے اور سب کے بعد ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسا ہمکلام ہوا کہ آپ پر سب سے زیادہ روشن اور پاک وحی نازل کی ایسا ہی اس نے مجھے بھی اپنے مکالمہ مخاطبہ کا شرف بخشا۔مگر یہ شرف مجھے محض آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی سے حاصل ہوا۔اگر میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی امت نہ ہوتا اور آپ کی پیروی نہ کرتا تو اگر دنیا کے تمام پہاڑوں کے برابر میرے اعمال ہوتے تو پھر بھی میں کبھی یہ شرف مکالمہ مخاطبہ ہر گز نہ پاتا۔" تجلیات الہیہ ، روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 411-412) یہ باتیں سن کر جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر اعتراض کرتا ہے وہ ظالم اور جاہل اور فتنہ پرداز ہے اس کے علاوہ کچھ نہیں کہا جا سکتا۔یہ جو بڑے بڑے علماء بنے پھرتے ہیں ان کا معاملہ اب خدا تعالیٰ پر ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت کا مقصد جہاں توحید کا قیام اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وس