خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 128 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 128

خطبات مسرور جلد 15 128 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 24 مارچ 2017 بڑے درد انگیز انداز میں اس طرح نقشہ کھینچا ہے کہ وہ شخص جس نے ہر قسم کی سختی اور تنگی کا سامنا کیا جس پر مخالفتوں کی بے شمار آندھیاں چلیں، بیشمار تکلیفوں اور ایذاؤں سے گزرے۔قتل کے مقدمات آپ پر بنے۔عزیزوں اور قریبیوں اور دوستوں حتی کہ بچوں کی موت کے نظارے دیکھے۔لیکن آپ کے قریب رہنے والوں نے کبھی آپ کے چہرے اور آنکھوں پر آپ کے دلی جذبات کا اظہار نہیں دیکھا۔لیکن اس موقع پر جہاں عشق رسول کے اظہار کا موقع آیا تو آپ کی آنکھیں سیلاب کی طرح بہہ نکلیں۔(ماخوز از سیرت طیبه از حضرت مرزا بشیر احمد صاحب صفحہ 28 تا30) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے عشق و محبت کے نظارے آپ کی تحریروں اور ملفوظات میں بھی بیشمار ملتے ہیں۔ایک جگہ مخالفین اسلام کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات پر ہنسی ٹھٹھا کرنے کی باتیں سن کر اپنی دلی کیفیت کا اظہار کرتے ہوئے آپ نے فرمایا کہ "میرے دل کو کسی چیز نے کبھی اتنا دکھ نہیں پہنچایا جتنا کہ ان لوگوں کے اس ہنسی ٹھٹھانے پہنچایا ہے جو وہ ہمارے رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں کرتے رہتے ہیں۔ان کے دل آزار طعن و تشنیع نے جو وہ حضرت خیر البشر صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات والا صفات کے خلاف کرتے ہیں میرے دل کو سخت زخمی کر رکھا ہے۔خدا کی قسم اگر میری ساری اولاد اور اولاد کی اولاد اور میرے سارے دوست اور میرے سارے معاون و مددگار میری آنکھوں کے سامنے قتل کر دیے جائیں اور خود میرے اپنے ہاتھ اور پاؤں کاٹ دیئے جائیں اور میری آنکھ کی پتلی نکال پھینکی جائے اور میں اپنی تمام مر ادوں سے محروم کر دیا جاؤں اور اپنی تمام خوشیوں اور تمام آسائشوں کو کھو بیٹھوں تو ان ساری باتوں کے مقابل پر بھی میرے لئے یہ صدمہ زیادہ بھاری ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایسے ناپاک حملے کئے جائیں۔پس اے میرے آسمانی آقا تو ہم پر اپنی رحمت اور نصرت کی نظر فرما اور ہمیں اس ابتلائے عظیم سے نجات بخش۔" (آئینہ کمالات اسلام۔روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 15۔عربی عبارت کا اردو ترجمہ سیرت طیبه از حضرت مرزا بشیر احمد صاحب صفحہ 43-44) کیا کوئی ہے جو اس طرح کے جذبات کا اظہار کر سکے۔عشق و محبت کا دعویٰ کرنے والے تو بہت ہیں۔ناموس رسالت اور ختم نبوت کے نام پر فتنہ و فساد اور قتل و غارت کرنے والے تو بہت لوگ ہیں۔لیکن کیا کوششیں کی ہیں انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام کو دنیا سے منوانے کے لئے اور اسلام اور قرآن کو دنیا میں پھیلانے کے لئے۔آپ کے الفاظ صرف منہ کا دعویٰ نہیں ہے بلکہ آپ کے ساتھ تعلق رکھنے والے بھی اور غیر بھی اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ آپ کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے عشق اور محبت کا اظہار آپ کے دل کی آواز اور آپ کے ہر عمل سے ثابت ہوتا ہے۔چنانچہ اس کا اظہار کرتے ہوئے امر تسر کے ایک اخبار جس کا نام "وکیل" تھا جو غیر احمدیوں کا اخبار تھا اس نے آپ کی وفات پر لکھا کہ :