خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 127 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 127

خطبات مسرور جلد 15 127 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 24 مارچ 2017 نہیں " اور جیسے سانپ مٹی کھاتا ہے انہوں نے سفلی اسباب کی مٹی کھائی۔اور جیسے گدھ اور کتے مردار کھاتے ہیں انہوں نے مردار پر دانت مارے۔وہ خد اسے بہت دور جا پڑے۔فرمایا کہ۔۔۔۔۔۔میں تمہیں حد اعتدال تک رعایت اسباب سے منع نہیں کرتا۔"کام کرنے سے ، چیزوں سے فائدہ اٹھانے سے ، مادی چیزوں کے استعمال سے منع نہیں کرتا بلکہ اس سے منع کرتا ہوں کہ تم غیر قوموں کی طرح نرے اسباب کے بندے ہو جاؤ اور اس خدا کو فراموش کر دو جو اسباب کو بھی وہی مہیا کرتا ہے" یہ وسائل جو ہیں، جو مادی چیزیں ہیں یہ وہی مہیا کرتا ہے۔ان پر نہ گرو بلکہ خدا کی طرف دیکھو جو یہ چیزیں مہیا کرتا ہے فرمایا کہ "اگر تمہیں آنکھ ہو تو تمہیں نظر آجائے کہ خدا ہی خدا ہے اور سب پیچ ہے۔" (کشتی نوح، روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 22) پس یہ تعلق ہے خدا تعالیٰ سے جس کو ہم نے حاصل کرنا اور قائم کرنا ہے۔جو آپ اپنے ماننے والوں سے چاہتے ہیں کہ یہ معیار حاصل ہوں۔جیسا کہ میں ابھی ذکر کر چکا ہوں کہ توحید کے قیام اور اسلام کی نشاۃ ثانیہ کا کام آپ علیہ السلام کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی اور آپ سے عشق و محبت کی وجہ سے ملا۔اس عشق و محبت کے نظارے ہمیں آپ کی ذات میں کس طرح نظر آتے ہیں اس کے بیشمار واقعات ہیں۔ایک واقعہ کو راوی بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ آپ مسجد مبارک میں اکیلے ٹہل رہے تھے اور کچھ گنگنا رہے تھے اور ساتھ ہی آپ کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔جب اس شخص نے عرض کی کہ کون ساصد مہ حضور کو پہنچا ہے ؟ تو فرمایا کہ میں حضرت حسّان بن ثابت کا یہ شعر پڑھ رہا تھا جو انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات پر کہا تھا۔شعر یہ ہے: كُنْتَ السَّوَادَ لِنَاظِرِي فَعَمِيَ عَلَيْكَ النَّاظِرُ مَنْ شَاءَ بَعْدَكَ فَلْيَمُتْ فَعَلَيْكَ كُنْتُ أَحَاذِرُ یعنی اے خدا کے پیارے رسول ! تُو میری آنکھ کی پتلی تھا جو آج تیری وفات کی وجہ سے اندھی ہو گئی ہے۔اب تیرے بعد جو چاہے مرے مجھے تو تیری موت کا ڈر تھا جو واقع ہو گئی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا میں یہ شعر جب پڑھ رہا تھا تو میرے دل میں یہ خواہش پیدا ہوئی کہ کاش یہ شعر میری زبان سے نکلتا۔یہ شعر پڑھتے ہوئے آپ کی آنکھوں سے بے انتہا آنسوؤں کا نکلنا آپ کے دل کی کیفیت کا حال بتارہاتھا۔پس وہ لوگ اس عشق و محبت کے اظہار کے قریب بھی کہاں پہنچ سکتے ہیں جو آپ پر الزام لگاتے ہیں کہ نعوذ باللہ آپ نے اپنے آپ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام سے اونچا درجہ دیا ہوا ہے۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ کی اس جذباتی حالت کی جو کیفیت تھی اس کا