خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 126
خطبات مسرور جلد 15 126 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 24 مارچ2017 ( تریاق القلوب، روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 511) نہیں پہچانا اور نہ قبول کیا۔" اس بات سے جہاں آپ علیہ السلام کی اللہ تعالیٰ سے محبت اور اس کی عظمت قائم کرنے کے لئے تڑپ نظر آتی ہے وہاں انسانیت کو بچانے کے لئے بے چینی کا بھی شدید اظہار نظر آتا ہے۔اور کیوں نہ ہو۔آپ ہی تو آخری زمانے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی میں اللہ تعالیٰ کی محبت کو دلوں میں قائم کرنے والے اور نہ صرف خود قائم کرنے والے ہیں بلکہ خود بھی اللہ تعالیٰ کی محبت میں ڈوبے ہوئے تھے۔آپ کو کس قدر تڑپ تھی کہ اللہ تعالیٰ سے عشق و محبت کی یہ چنگاری دوسروں کے دلوں میں بھی پیدا ہو جائے۔اس بارے میں آپ فرماتے ہیں: "کیا بد بخت وہ انسان ہے جس کو اب تک یہ پتہ نہیں کہ اُس کا ایک خدا ہے جو ہر ایک چیز پر قادر ہے۔ہمارا بہشت ہمارا خدا ہے۔ہماری اعلیٰ لذات ہمارے خدا میں ہیں کیونکہ ہم نے اُس کو دیکھا اور ہر ایک خوب صورتی اُس میں پائی۔یہ دولت لینے کے لایق ہے اگر چہ جان دینے سے ملے اور یہ لعل خریدنے کے لائق ہے اگر چہ تمام وجود کھونے سے حاصل ہو۔اے محرومو! اس چشمہ کی طرف دوڑو کہ وہ تمہیں سیراب کرے گا۔یہ زندگی کا چشمہ ہے جو تمہیں بچائے گا۔میں کیا کروں اور کس طرح اس خوشخبری کو دلوں میں بٹھا دوں۔کس دف سے میں بازاروں میں منادی کروں کہ تمہارا یہ خدا ہے تالوگ سن لیں۔اور کس دوا سے میں علاج کروں تا سننے کے لئے لوگوں کے کان کھلیں۔" (کشتی نوح۔روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 21-22) ان الفاظ کی تہہ میں کس قدر درد ہے۔بلکہ کہنا چاہئے کہ ہر ہر لفظ میں درد کے کئی پہلو چھپے ہوئے ہیں۔ہر لفظ کے کئی پرت ہیں اور ہر پرت میں درد ہے اور ان کی گہرائی میں ہر ایک اپنے فہم اور ادراک کے لحاظ سے جاسکتا ہے لیکن جس حد تک بھی کوئی اپنی استعداد کے مطابق پہنچے گا روحانیت میں غیر معمولی بلندی اور غیر معمولی ترقی حاصل کرنے والا ہو گا۔پھر خدا تعالیٰ کی عبادت اور خدا تعالیٰ سے محبت کی نصیحت کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں کہ : "اگر تم خدا کے ہو جاؤ گے تو یقیناً سمجھو کہ خدا تمہارا ہی ہے۔تم سوئے ہوئے ہو گے اور خدا تعالیٰ تمہارے لئے جاگے گا۔تم دشمن سے غافل ہو گے اور خدا اسے دیکھے گا اور اُس کے منصوبے کو توڑے گا۔تم ابھی تک نہیں جانتے کہ تمہارے خدا میں کیا کیا قدرتیں ہیں۔اور اگر تم جانتے تو تم پر کوئی ایسا دن نہ آتا کہ تم دنیا کے لئے سخت غمگین ہو جاتے۔ایک شخص جو ایک خزانہ اپنے پاس رکھتا ہے کیا وہ ایک پیسہ کے ضائع ہونے سے روتا ہے اور چینیں مارتا ہے اور ہلاک ہونے لگتا ہے؟ پھر اگر تم کو اُس خزانہ کی اطلاع ہوتی کہ خدا تمہارا ہر ایک حاجت کے وقت کام آنے والا ہے تو تم دنیا کے لئے ایسے بے خود کیوں ہوتے۔خدا ایک پیارا خزانہ ہے اس کی قدر کرو کہ وہ تمہارے ہر ایک قدم میں تمہارا مددگار ہے۔تم بغیر اس کے کچھ بھی نہیں اور نہ تمہارے اسباب اور تدبیریں کچھ چیز ہیں۔" فرماتے ہیں "غیر قوموں کی تقلید نہ کرو کہ جو بکلی اسباب پر گر گئی ہیں" دنیا داری اور مادیت کے علاوہ ان میں کچھ