خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 125 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 125

خطبات مسرور جلد 15 125 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 24 مارچ 2017 روشنی دکھلاتی ہے۔نجات یافتہ کون ہے؟ وہ جو یقین رکھتا ہے جو خدا سچ ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس میں اور تمام مخلوق میں درمیانی شفیع ہے۔اور آسمان کے نیچے نہ اس کے ہم رتبہ کوئی اور رسول ہے اور نہ قرآن کے ہم رتبہ کوئی اور کتاب ہے۔اور کسی کے لئے خدا نے نہ چاہا کہ وہ ہمیشہ زندہ رہے مگر یہ برگزیدہ نبی ہمیشہ کے لئے زندہ ہے۔" (کشتی نوح، روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 13-14) یہ ہے وہ مقام اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت جس کا آپ نے ہمیشہ بھر پور اظہار کیا اور اپنے ماننے والوں کو بھی اس بات کی تلقین کی کہ وہ اس محبت اور مقام کو اپنے سامنے رکھیں۔ظالم ہیں وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور آپ کے ماننے والے نعوذ باللہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مقام سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام کو کم کرتے ہیں اور آجکل الجیریا میں بھی احمدیوں پر یہ الزام لگایا جارہا ہے اور الزام لگا کر انہیں جیلوں میں ڈالا جارہا ہے۔یہاں تک کہ اب عورتوں پر بھی انہوں نے ہاتھ ڈالنے شروع کر دیئے ہیں۔ان پر مقدمے قائم کرنے شروع کر دیئے ہیں۔کئی کئی گھنٹے سفر کروا کر دودھ پیتے چند مہینوں کے بچوں کے ساتھ عورتوں کو دوسرے شہروں میں لے جایا جاتا ہے اور مقدمہ قائم کیا جاتا ہے اور جیل بھیج دیا جاتا ہے۔لیکن عورتیں بھی یہی پیغام مجھے بھجوا رہی ہیں کہ ہم نے مسیح موعود کو مانا ہے اور اس ماننے کے بعد ہی ہمیں حقیقی توحید اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام و مرتبہ اور آپ سے سچی محبت کی حقیقت پتا چلی ہے۔ہم کس طرح اپنے ایمان سے پیچھے ہٹ سکتی ہیں۔جہاں ہم یہ دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان احمدیوں کے لئے آسانیاں پیدا فرمائے وہاں ہماری یہ بھی دعا بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عاشق صادق کو ماننے کی توفیق عطا فرمائے۔وہ جو اللہ تعالیٰ کے وعدے کے مطابق توحید کے قیام اور اسلام کی نشاۃ ثانیہ کے لئے آیا تھا۔اللہ تعالیٰ سے محبت اور توحید کے قیام کے لئے آپ کی تڑپ کی ایک جھلک آپ کے ان الفاظ سے ملتی ہے۔آپ اللہ تعالی کو مخاطب کر کے فرماتے ہیں کہ : "دیکھ ! میری روح نہایت تو گل کے ساتھ تیری طرف ایسی پرواز کر رہی ہے جیسا کہ پرندہ اپنے آشیانے کی طرف آتا ہے۔سو میں تیری قدرت کے نشان کا خواہشمند ہوں لیکن نہ اپنے لئے اور نہ اپنی عزت کے لئے بلکہ اس لئے کہ لوگ تجھے پہچانیں اور تیری پاک راہوں کو اختیار کریں اور جس کو تُو نے بھیجا ہے اس کی تکذیب کر کے ہدایت سے دُور نہ پڑھ جائیں۔فرمایا کہ "میں گواہی دیتا ہوں کہ تُو نے مجھے بھیجا ہے اور میری تائید میں بڑے بڑے نشان ظاہر کئے ہیں۔یہاں تک کہ سورج اور چاند کو حکم دیا کہ وہ رمضان میں پیشگوئی کی تاریخوں کے موافق گرہن میں آویں۔۔۔میں تجھے پہچانتا ہوں کہ تو ہی میرا خدا ہے۔اس لئے میری روح تیرے نام سے ایسی اچھلتی ہے جیسا کہ شیر خوار بچہ ماں کے دیکھنے سے۔لیکن اکثر لوگوں نے مجھے