خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 122 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 122

خطبات مسرور جلد 15 122 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 17 مارچ 2017 1939ء سے 1944 ء تک محکمہ ریلوے میں اسسٹنٹ سٹیشن ماسٹر کے طور پر کام کیا۔پھر 1943ء میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تحریک پر وقف زندگی کی درخواست دی۔اس وقت حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے یہ ارشاد فرمایا کہ اپنا کام جاری رکھیں اور تبلیغ کرتے رہیں۔لیکن حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے خطبہ کو سن کر ان کی خواہش یہی تھی کہ وقف کریں اور باقاعدہ مبلغ کے طور پر کام کریں اور آخر پھر اسی خواہش کی وجہ سے اور مسلسل حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کو لکھتے رہنے کی وجہ سے ایک وقت آیا جب ان کو بطور مبلغ لے لیا گیا اور بمبئی میں ان کو مبلغ انچارج بنا دیا گیا۔پہلے انہوں نے مولانا عبد الرحیم نیر صاحب کے تحت معاون کے طور پر کام کیا۔پھر خود ان کو مبلغ انچارج بنایا گیا۔مجموعی طور پر 25 سال تبلیغ کے میدان میں خدمت بجالانے کی توفیق پائی۔1972ء کے آخر میں قادیان مرکز بلا لیا گیا۔یہاں مدرسہ احمدیہ میں پہلے استاد مقرر ہوئے۔پھر بارہ سال بطور ہیڈ ماسٹر مدرسہ احمد یہ خدمت بجالانے کی توفیق ملی۔بحیثیت ناظم دار القضاء، صدر مجلس انصار اللہ بھارت اور ممبر اور پھر صدر مجلس کار پرداز کے طور پر خدمت کی توفیق ملی۔ناظم وقف جدید بھی بنائے گئے۔اور 2011ء میں ان کو صدر صدر انجمن احمد یہ بنایا تھا اور 2014ء تک یہ صدر صدر انجمن احمدیہ کی خدمت بجالاتے رہے۔اس لحاظ سے ان کا جو خدمت کا عرصہ ہے بہت وسیع ہے۔کئی سالوں پر پھیلا ہوا ہے۔ان کو حج بدل کے طور پر حج بیت اللہ کی بھی توفیق ملی۔قرآن کریم کی تلاوت بڑی عمدہ کیا کرتے تھے۔آواز بھی بڑی اونچی تھی۔ان کی وصیت پہلے 1/10 تھی پھر انہوں نے 1/7 کی اور پھر 1/5 کے موصی تھے۔بڑے بے نفس انسان تھے۔بڑی عاجزی سے اور بے نفس ہو کر انہوں نے ہمیشہ خدمت کی۔اپنے سے بہت جو نیئر کے بھی ماتحت رہے تو کامل اطاعت کے ساتھ انہوں نے اپنے جونیئر مربیان کے تحت بھی کام کیا۔اللہ تعالیٰ مرحوم کے درجات بلند کرے۔ان کی اولاد اس وقت تین بیٹیاں پاکستان میں ہیں۔تین بھارت میں ہی ہیں۔دو بیٹے ہیں جو جماعت کی خدمت کر رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ ان کو بھی وفا اور اخلاص سے اپنے عہد بیعت کو نبھانے اور خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔دوسرا جنازہ مکرم فضل الہی انوری صاحب ابن مکرم ماسٹر امام علی صاحب کا ہے جو 4 مارچ2017ء کو 90 سال کی عمر میں جرمنی میں وفات پاگئے۔اِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔16 اپریل 1927ء کو یہ بھیرہ میں پیدا ہوئے اور 1946ء میں تعلیم الاسلام کالج قادیان سے ایف۔ایس۔سی کا امتحان پاس کیا۔1947ء میں اپنے آپ کو وقف کے لئے پیش کیا۔پھر اس کے بعد انہوں نے بی۔ایس۔سی میں داخلہ لیا اور 1950ء میں گور نمنٹ کالج لاہور سے بی۔ایس۔سی کی۔1951ء میں جامعتہ المبشرین میں داخل ہوئے اور پھر اس کے بعد آپ کی خدمات کا سلسلہ کافی لمبا ہے۔1956ء میں بطور مبلغ گھانا بھجوایا گیا۔1960ء تک آپ وہاں رہے۔1960ء سے 1964ء تک جا۔جامعہ احمدیہ ربوہ میں استاد رہے۔64ء سے 67ء تک مغربی جرمنی کے مبلغ رہے۔پھر 68ء میں افریقہ میں نائیجیریا بھیجے گئے۔1972ء تک وہاں رہے۔1972ء میں پھر جرمنی آئے اور 1977ء تک وہاں خدمات انجام دیں۔1979ء میں