خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 121
خطبات مسرور جلد 15 121 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 17 مارچ 2017 پس اس مخالفت میں جہاں مسلمانوں کی طرف سے مخالفت ہے وہاں ہم دیکھتے ہیں کہ احمدیت کا تعارف ہو رہا ہے اور ترقی بھی ہو رہی ہے۔الجزائر میں بھی ہماری تبلیغ سے شاید جماعت کا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا اتناتعارف نہ ہو تا جتنا ان مقدمات اور ہمارے خلاف اخباروں میں لکھنے کی وجہ سے ہوا ہے اور سعید فطر توں پر اس کا نیک اثر بھی ہو رہا ہے۔اسی طرح غیر مسلم ممالک میں بھی جب اسلام کے خلاف فضا ہے ہمیں زیادہ سے زیادہ احمدیت اور حقیقی اسلام کو متعارف کروانے کی کوشش کرنی چاہئے۔جیسا کہ میں نے کہا کہ پر امن تعلیم کو پھیلانا چاہئے اس سے شاید ایک طبقہ میں ہماری مخالفت بھی بڑھے گی۔بعض جگہ ایسے نمونے سامنے آ بھی رہے ہیں کہ غیروں میں بھی عیسائیوں میں بھی مخالفت بڑھتی ہے مثلاً مشرقی جرمنی میں جماعت کے خلاف قوم پرست بہت کچھ کہتے ہیں لیکن نیک فطرت دلوں پر اس کا مثبت اثر بھی ہو رہا ہے۔جماعت کا تعارف ہو رہا ہے۔پس اس سے ہمیں خوفزدہ ہونے کی بجائے خوش ہو کر اپنے کام کو تیز کرنا چاہئے اور ہر احمدی کو اپنے نمونے اور اپنے اظہار سے تبلیغ کا حصہ بننا چاہئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ " اسلام کی حفاظت اور سچائی کے ظاہر کرنے کے لئے سب سے اول تو وہ پہلو ہے کہ تم سچے مسلمانوں کا نمونہ بن کر دکھاؤ۔اور دوسرا پہلو یہ ہے کہ اس کی خوبیوں اور (ملفوظات جلد 8 صفحہ 323) کمالات کو دنیا میں پھیلاؤ۔" اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ ہم اپنی زندگیوں کو اس کے مطابق گزارنے والے ہوں۔سچے مسلمانوں کا نمونہ بننے والے ہوں اور تمام تر مخالفتوں کے باوجود اسلام کی خوبیوں اور کمالات کو دنیا میں پھیلانے والے بنیں اور ہم میں سے ہر ایک حقیقی اسلام کی حفاظت اور سچائی ظاہر کرنے والوں میں سے بن جائے۔نمازوں کے بعد میں کچھ جنازے غائب پڑھاؤں گا۔پہلا جنازہ غائب مکرم و محترم مولانا حکیم محمد دین صاحب قادیان کا ہے جو محترم محمد عزیز الدین صاحب کے بیٹے تھے۔15 مارچ 2017ء کو ستانوے سال کی عمر میں ان کی وفات ہو گئی۔اِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔ان کے دادا حضرت حکیم مولوی وزیر الدین صاحب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے صحابی تھے اور تین سو تیرہ صحابہ کی فہرست میں ان کا نام حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی دوکتب آئینہ کمالات اسلام اور ضمیمہ انجام آتھم میں درج فرمایا ہوا ہے۔حضرت حکیم مولوی وزیر الدین صاحب کانگڑہ میں ایک مدرسہ کے ہیڈ ماسٹر تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئی کے مطابق 1905ء میں کانگڑہ میں جو خوفناک زلزلہ آیا تھا اس میں آپ اور مدرسے کے طلباء معجزانہ طور پر بچ گئے۔حکیم محمد دین صاحب مرحوم جون 1920ء کو مکیریاں ضلع ہوشیار پور میں پیدا ہوئے۔میٹرک کا امتحان لاہور سے اور انٹر کا امتحان قادیان سے پاس کیا۔منشی فاضل کی ڈگری حاصل کی۔دو سال طبیہ کالج لاہور میں تعلیم حاصل کی۔وہاں سے حکیم حاذق کی ڈگری حاصل کی۔