خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 123
123 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 17 مارچ 2017 خطبات مسرور جلد 15 حدیقہ المبشرین میں بطور سیکرٹری کام کیا۔ایڈیشنل ناظر اصلاح و ارشاد تعلیم القرآن بھی مقرر ہوئے۔اور 1982ء میں گیمبیا مبلغ کے طور پر گئے۔1983 ء تک پھر وہاں رہے۔پھر بطور مبلغ ان کا نائیجیر یا تبادلہ ہو گیا اور 1986ء تک وہاں رہے۔1986ء میں پاکستان واپس گئے تو جامعہ احمدیہ میں بطور استاد خدمت کی توفیق پائی اور پھر 1988ء میں آپ کا تقرر وکالت تصنیف میں ہوا۔1988ء تک خدمت سلسلہ کی توفیق پائی۔اس کے بعد آپ کی ریٹائر منٹ ہوئی۔اس کے بعد سے آپ جرمنی میں ہی تھے۔1974ء کے حالات کے بعد آپ نے جرمنی میں احمدیوں کو وہاں منگوانے کا اور امیگریشن دلوانے کا بڑا کام کیا جس کو حضرت خلیفہ المسیح الثالث نے بڑا سر اہا اور وہاں رہنے والے جو بعض پرانے احمدی ہیں انہوں نے مثلاً عرفان خان صاحب نے مجھے لکھا کہ باپ کی طرح انہوں نے ہمیں وہاں رکھا اس وقت جماعت کے مالی حالات بھی ایسے نہیں تھے تو یہاں تک احتیاط کرتے تھے کہ ہم پانی نہ ضائع کریں اور وضو کرتے ہوئے ہمارے پیچھے کھڑے ہو جایا کرتے تھے کہ پانی تو ضائع نہیں کر رہے۔اس وقت وہاں اکثریت نوجوانوں کی ہی آئی تھی تو ان کو آپ نے باقاعدہ جماعت کے ساتھ منسلک رکھا اور ان کی تربیت بھی کرتے رہے۔بڑے قناعت پسند تھے۔اللہ تعالیٰ مرحوم کے درجات بلند فرمائے اور ان کی اولاد کو بھی ان کی نیکیوں کو جاری رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔انہوں نے درویشان کی مختلف خصوصیات پہ بعض کتب بھی لکھی ہیں۔تیسر اجنازہ مراکش سے ابراہیم بن عبد اللہ اغزول صاحب کا ہے۔جو جمال اغزول صاحب کے والد ہیں۔10 مارچ 2017ء کو 81 سال کی عمر میں ان کی وفات ہوئی۔اِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ۔انہوں نے سن 2000ء میں بیعت کی تھی۔ان کی اہلیہ نے ان سے پہلے بیعت کی تھی اور ان کی اہلیہ نے ہی انہیں بیعت کے لئے تیار کیا تھا۔اکثر ایم ٹی اے دیکھتے رہتے تھے۔نمازوں کے پابند اور قرآن کریم سے خاص محبت رکھنے والے تھے۔سب افراد خانہ سے بہت شفقت کرتے بہت نرم خو تھے۔اولاد کی تربیت میں کبھی سختی نہیں کی۔اپنے کنبے کو، خاندان کو ہمیشہ متحد رکھا۔سخاوت اور صلہ رحمی میں بہت نمایاں تھے۔مالی لحاظ سے کمزور بھائیوں کو اچھے دنوں میں اپنی تجارت میں شریک کر کے ان کے مالی حالات بہتر کرنے کی کوشش کرتے۔مہمان نوازی ان کا خاص وصف تھا۔جماعتی مہمانوں کے آنے پر بڑے خوش ہوتے تھے۔جوانی سے ہی ایمانداری میں مشہور تھے حتی کہ جس شخص کے پاس کام کرتے تھے وہ اپنا سارا سامان تجارت اور اموال ان کے حوالے کر دیتا تھا جس پر ان کے ساتھی تاجر حیران ہو جاتے تھے۔آخری عمر میں بیماری کی حالت میں بار بار نماز کی بابت دریافت کرتے رہے۔اللہ تعالیٰ مرحوم کے درجات بلند فرمائے اور ان کے لواحقین کو بھی صبر اور حوصلہ عطا فرمائے اور خلافت اور جماعت سے وابستہ رکھے۔الفضل انٹر نیشنل مورخہ 07 اپریل 2017ء تا 13 اپریل 2017ء جلد 24 شمارہ 14 صفحہ 05تا08)