خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 120 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 120

خطبات مسرور جلد 15 120 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 17 مارچ2017 فرمایا کہ بس چھوٹا سا چٹکلہ کسی وقت چھوڑ دیا جو سیدھا کان کے اندر چلا جائے۔پھر کبھی اتفاق ہو اتو پھر سہی۔" ( ملفوظات جلد 10 صفحہ 119) اب یہ باتیں اسی وقت ہو سکتی ہیں جب مستقل رابطے ہوں۔آزادی کے نام پر خدا تعالیٰ کے قانون سے ٹکر انے اور آزادی کے نام پر غیر اخلاقی باتوں کو اخلاق کے زمرہ میں لانے کی جو مذ ہب مخالف طاقتیں ہیں کوشش کر رہی ہیں۔ہم حکمت کی باتوں اور مستقل رابطوں اور کوشش سے ہی ان کے رڈ کر سکتے ہیں۔ان کا توڑ کر سکتے ہیں۔اب آسٹریلیا میں اگر ایک طبقہ اسلام دشمنی میں یہاں تک پہنچ گیا ہے کہ اگر مسلمان مرد عورتوں سے یا عورتیں مردوں سے مصافحہ نہیں کرتے تو انہیں ملک سے نکال دینا چاہئے۔یا حجاب کے کچھ لوگ خلاف ہیں یا بعض ملکوں میں مسجدوں اور میناروں کے خلاف ہیں۔یا ہالینڈ کے ایک سیاستدان کا بیان ہے کہ تمام مسلمانوں کو ہی ملک سے نکال دو۔یا ایک مخصوص ملک کے مسلمانوں کو ملک سے نکال دو۔یا امریکہ کے صدر بعض مسلمان ممالک کے لوگوں پر پابندیاں لگانا چاہتا ہے تو یہ بیشک اسلام مخالف سوچ کا نتیجہ ہے۔یہ ساری باتیں اور بعض مسلمان گروہوں کے عمل اس کو ہوا دینے والے ہیں۔لیکن ساتھ ہی اسلام کی تعلیم کی حقیقت بھی ان لوگوں کی اکثریت کو معلوم نہیں۔اس لئے اس بارے میں حکمت سے اپنے اپنے دائرے میں ہر احمدی کو کام کرنا چاہئے۔ہر جگہ جہاں جماعت کی تعداد اتنی ہے کہ ہم موثر پیغام پہنچانے کا کام کر سکیں وہاں ہمیں اپنے روایتی پروگراموں کے ساتھ جو تبلیغی پروگرام ہیں اسلام کے امن اور سلامتی کے پیغام کو پہنچانے کے لئے موثر پر وگرام بھی بنانے چاہئیں۔ان ملکوں میں جہاں اسلام کے خلاف قوتیں زور پکڑ رہی ہیں ان کے زور کو توڑنے کے لئے اگر کوئی منظم کوشش کر سکتا ہے تو وہ جماعت احمدیہ ہی کر سکتی ہے۔دوسرے مسلمان اسلام کی خوبصورتی کو ظاہر کرنے اور اس کا پیغام پہنچانے کا کام کر ہی نہیں سکتے۔ان میں وہ تنظیم ہی نہیں ہے نہ ان کے پاس علم ہے۔یہ کام اب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ منسلک ہونے والوں کے ذریعہ مقدر ہے۔پس اس بات کی اہمیت کو ہمیں سمجھنا چاہئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک جگہ فرماتے ہیں: " جس قدر زور سے باطل حق کی مخالفت کرتا ہے اسی قدر حق کی قوت اور طاقت تیز ہوتی ہے۔" فرمایا یہ ایک قدرتی نظارہ ہے۔حق کی جس قدر زور سے مخالفت ہو اسی قدر وہ چمکتا اور اپنی شوکت دکھاتا ہے۔" آپ فرماتے ہیں کہ "ہم نے خود آزما کر دیکھا ہے جہاں جہاں ہماری نسبت زیادہ شور وغل ہوا ہے وہاں ایک جماعت تیار ہو گئی اور جہاں لوگ۔۔۔۔۔۔سن کر خاموش ہو جاتے ہیں وہاں زیادہ ترقی نہیں ہوتی۔" (ملفوظات جلد 5 صفحہ 310-311)