خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 119
خطبات مسرور جلد 15 119 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 17 مارچ 2017 باتیں کرتے ہیں اور پھر غیروں کو ہی نہیں بلکہ مسلمان مسلمان کی گردن کاٹ رہا ہے اور اسلام کو بد نام کر رہے ہیں۔احمدیوں کے خلاف تو یہ سب ہیں ہی۔ایک فرقہ دوسرے فرقے کے خلاف اور ایک گروپ دوسرے گروپ کے خلاف بھی قتل و غارت گری کر رہا ہے۔ایسے میں احمدیوں کا کام بہت بڑھ گیا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ "یاد رکھو جو شخص سختی کرتا اور غضب میں آجاتا ہے اس کی زبان سے معارف اور حکمت کی باتیں ہر گز نہیں نکل سکتیں۔وہ دل حکمت کی باتوں سے محروم کیا جاتا ہے جو اپنے مقابل کے سامنے جلدی طیش میں آکر آپے سے باہر ہو جاتا ہے۔گندہ دہن اور بے لگام کے ہونٹ لطائف کے چشمہ سے بے نصیب اور محروم کئے جاتے ہیں۔غضب اور حکمت دو نو جمع نہیں ہو سکتے۔" فرمایا " جو مغضوب الغضب ہوتا ہے۔اس کی عقل موٹی اور فہم کند ہوتا ہے۔اس کو کبھی کسی میدان میں غلبہ اور نصرت نہیں دیئے جاتے۔غضب نصف جنون ہے۔جب یہ زیادہ بھڑکتا ہے تو پورا جنون ہو سکتا ہے۔" ( ملفوظات جلد 5 صفحہ 126-127) پس جب غضب اور جنون ہو جائے تو انسان پھر عقل کی باتیں نہیں کرتا اور یہی ہم غیروں میں دیکھتے ہیں۔ہمارے خلاف تو مولوی ہر جگہ یہ عمل دکھا رہا ہے اور اس کا یہ عمل صرف ہمارے خلاف ہی نہیں ہے، اسلام کو بھی بدنام کر رہا ہے۔جب ہم تبلیغ کرتے ہیں اور اسلام کی پر امن تعلیم دنیا کو بتاتے ہیں تو اسلام مخالف طاقتیں جو ہیں ہمیں ہمیشہ یہی جواب دیتی ہیں کہ ٹھیک ہے تم پر امن ہو گے لیکن تمہیں تو مسلمان اکثریت مسلمان ہی نہیں سمجھتی لہذا تم اسلام کی نمائندگی نہیں کر سکتے۔پس ان حالات میں ہمارے چینج مزید بڑھ جاتے ہیں اور ہر احمدی کو اس بارے میں اپنی ذمہ داری کا احساس کرنے کی ضرورت ہے۔اس کا ہر فعل اور عمل اسلام کا نمونہ ہو۔اگر تبلیغ نہیں بھی کر رہا تو پھر بھی اس کا قول و فعل اسلام کا پیغام پہنچانے والا ہو۔پھر تبلیغ کے لئے ہمیں حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حکمت کی اس بات کو بھی سامنے رکھنا چاہئے۔آپ نے فرمایا کہ دلوں کی کچھ خواہشیں اور میلان ہوتے ہیں جن کی وجہ سے وہ کسی وقت بات سننے کے لئے تیار رہتے ہیں اور کسی وقت اس کے لئے تیار نہیں ہوتے۔کبھی انسان کوئی بات سننے کے لئے تیار ہوتا ہے کبھی نہیں ہوتا) اس لئے لوگوں کے دلوں میں ان میلانات کے تحت داخل ہوا کرو۔یہ دیکھا کرو کہ اس وقت کیا صورتحال ہے اور پھر اس کے مطابق بات کرو اور اس وقت اپنی بات کہا کر وجب وہ بات سننے کے لئے تیار ہوں۔(ماخوذ از نهج البلاغہ جزء4 صفحہ 470 روایت نمبر 506 مطبوعہ دار المعرفۃ بیروت 2005ء) پس اس حکمت کو ہمیں اختیار کرنا چاہئے۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ رہنمائی فرمائی کہ : " چاہئے کہ جب کلام کرے تو سوچ کر اور مختصر کام کی بات کرے۔بہت بحثیں کرنے سے کچھ فائدہ نہیں ہو تا۔"