خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 118
خطبات مسرور جلد 15 118 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 17 مارچ 2017 " جب تو کسی۔۔۔۔۔کے ساتھ بحث کرے تو حکمت اور نیک نصیحتوں کے ساتھ بحث کر جو نرمی اور تہذیب سے ہو۔ہاں یہ سچ ہے کہ بہتیرے اس زمانے کے جاہل اور نادان مولوی اپنی حماقت سے یہی خیال رکھتے ہیں کہ جہاد اور تلوار سے دین کو پھیلانا نہایت ثواب کی بات ہے اور وہ در پردہ اور نفاق سے زندگی بسر کرتے ہیں۔لیکن وہ ایسے خیال میں سخت غلطی پر ہیں اور ان کی غلط فہمی سے الہی کتاب پر الزام نہیں آسکتا۔" اگر وہ ایسی باتیں کرتے ہیں تو ان کی غلطی ہے۔اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ کی کتاب پر الزام آئے۔فرمایا کہ "واقعی سچائیاں اور حقیقی صداقتیں کسی جبر کی محتاج نہیں ہو تیں بلکہ جبر اس بات پر دلیل ٹھہرتا ہے کہ روحانی دلائل کمزور ہیں۔کیا وہ خدا جس نے اپنے پاک رسول (صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ وحی نازل کی کہ فَاصْبِرُ كَمَا صَبَرَ أُولُو الْعَزْمِ (الاحقاف: 36) یعنی تو ایسا صبر کر کہ جو تمام اولوالعزم رسولوں کے صبر کے برابر ہو۔یعنی اگر تمام نبیوں کا صبر اکٹھا کر دیا جائے تو وہ تیرے صبر سے زیادہ نہ ہو۔اور پھر فرمایا کہ لا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ (البقرة: 257) یعنی دین میں جبر نہیں چاہئے اور پھر فرمایا کہ اُدْعُ إلى سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ - يعنى حکمت اور نیک وعظوں کے ساتھ مباحثہ کر، نہ سختی سے۔اور پھر فرمایا وَالْكُظِمِينَ الْغَيْظَ وَالْعَافِينَ عَنِ النَّاسِ (آل عمران : 135) یعنی مومن وہی ہیں جو غصہ کو کھا جاتے ہیں اور یاوہ گو اور ظالم طبع لوگوں کے حملوں کو معاف کر دیتے ہیں اور بیہودگی کا بیہودگی سے جواب نہیں دیتے۔" فرمایا کہ "کیا ایسا خدا یہ تعلیم دے سکتا تھا کہ تم اپنے دین کے منکروں کو قتل کر دو اور ان کے مال لوٹ لو اور ان کے گھروں کو ویران کر دو۔بلکہ اسلام کی ابتدائی کارروائی جو حکم الہی کے موافق تھی صرف اتنی تھی کہ جنہوں نے ظالمانہ طور سے تلوار اٹھائی وہ تلوار ہی سے مارے گئے اور جیسا کیا ویسا اپنا پاداش پالیا۔" فرمایا کہ " یہ کہاں لکھا ہے کہ تلوار کے ساتھ منکروں کو قتل کرتے پھرو۔یہ تو جاہل مولویوں اور نادان پادریوں کا خیال ہے جس کی کچھ بھی اصلیت نہیں۔" تبلیغ رسالت ( مجموعہ اشتہارات) جلد 3 صفحہ 194 تا196 حاشیہ بحوالہ تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام زیر سورۃ النحل آیت 126) جو مولوی ہیں اسلام کے پھیلانے کے نام نہاد علمبر دار بنے پھرتے ہیں یا وہ لوگ جو یہ کہتے ہیں یا جو اسلام کے مخالف لوگ ہیں وہ یہ کہتے ہیں کہ اسلام کہتا ہے کہ منکروں کو قتل کرو۔(حالانکہ یہ ) کہیں نہیں لکھا۔پس یہ ہے اسلام کی تعلیم جس پر دوسرے مسلمان تو عمل نہیں کرتے یا اس لئے کہ ان کو اسلام کا پیغام پہنچانے سے دلچسپی نہیں ہے یا اس لئے کہ جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا: نادان اور جاہل مولوی ہیں۔لیکن ہم نے مسلمانوں میں بھی اور غیر مسلموں میں بھی یہ تعلیم عام کرنی ہے۔اس لئے اپنے اپنے حلقے میں، اپنے اپنے دائرے میں ہر احمدی کو اس طرف توجہ کی ضرورت ہے کیونکہ پہلے اگر یہ لوگ چھپے ہوئے تھے اور نفاق کی زندگی گزار رہے تھے لیکن اسلام کی شدت پسند تعلیم کا نظریہ رکھتے تھے تو اب ایسے گروہ ہیں جو کھلے عام ایسی