خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 117 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 117

خطبات مسرور جلد 15 117 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 17 مارچ 2017 فائدہ؟ ہمیں تو آپ نے آکر یہ بتایا کہ تم نے اللہ تعالیٰ کے حکموں کے مطابق چلنا ہے اور اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرنی ہے۔اپنے ایمان کو بھی ضائع نہیں کرنا اور فساد کو بھی پیدا نہیں ہونے دینا۔اور ساتھ ہی یہ چیز بھی سامنے رکھنی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے پیغام کو دنیا تک پہنچانا بھی ہے تا کہ توحید کا قیام ہو اور اسلام کی خوبصورت تعلیم کو دنیا میں پھیلایا جائے اور دنیا کی اکثریت اس تعلیم کی قائل ہو۔آپ نے فرمایا کہ اس کے لئے اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں جو ہماری رہنمائی فرمائی ہے اس کے مطابق چلو اور وہ یہ ہے کہ اُدْعُ إِلَى سَبِيلِ رَبَّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَجَادِلْهُمْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ (النحل: 126) یعنی اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت کے ساتھ اور اچھی نصیحت کے ساتھ بلا اور ان کے ساتھ ایسی دلیل کے ساتھ بحث کر جو بہترین ہو۔پس تبلیغ کے لئے ، اسلام کی خوبصورت تعلیم پھیلانے کے لئے ، اسلامی احکامات کی حکمت بتانے کے لئے دلیل کے ساتھ بات کی ضرورت ہے نہ کہ اُس طرح جس طرح یہ آجکل کے نام نہاد علماء یا شدت پسند گروہ کر رہے ہیں۔تلوار کے ساتھ اسلام پھیلانے کا اللہ تعالیٰ نے کہیں حکم نہیں دیا۔پھر جو دنیا دار ممالک ہیں اور جو حکومتیں ہیں ان میں بھی بعض ایسی باتیں رائج ہو گئی ہیں یا ایسی باتوں کو قانون تحفظ دیتا ہے جن کی مذہب اجازت نہیں دیتا اور مذہب کے نزدیک وہ نہ صرف اخلاق سے گری ہوئی باتیں ہیں بلکہ گناہ بھی ہیں ان کے بارے میں اگر ہم نے بات کرنی ہے اور اگر دوسرا فریق اس پر غصہ میں آتا ہے تو عارضی طور پر اس بات کو ٹالا جاسکتا ہے، وہاں سے سلام کر کے اٹھا جاسکتا ہے۔یہی اس وقت حکمت کا تقاضا ہو گا لیکن یہ نہیں ہو سکتا کہ ہم اس لئے کہ یہ قانون بن گیا یا دوسرا فریق غصہ میں آگیا ہم ان کی ہاں میں ہاں ملانے لگ جائیں۔اگر خوفزدہ ہو کر یاد نیاداری سے متاثر ہو کر ہاں میں ہاں ملاتے ہیں تو یہ غلط ہے اور پھر ہم اس گناہ میں شامل ہو جاتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ " آیت جادِلُهُمْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ کا یہ منشاء نہیں ہے کہ ہم اس قدر نرمی کریں کہ مداہنہ کر کے خلاف واقعہ بات کی تصدیق کر لیں۔" تریاق القلوب، روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 305 حاشیہ ) پس حکمت کا مطلب یہ نہیں ہے کہ بزدلی دکھائی جائے بلکہ حکمت حق بات کو بغیر فساد کے کہنے میں ہے یا ایسے طریقے سے بات کی جائے کہ جس سے فساد پیدا نہ ہو اور جو اس بات کے کرنے کا حق ہے وہ بھی ادا ہو جائے۔پس ایک مومن کو اس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ بزدلی اور حکمت میں کیا فرق ہے۔جو اسلام کے واضح حکم ہیں اور جن کو اسلام غلط کہتا ہے اس کو ہم نے نہیں کرنا اور غلط ہی کہنا ہے اور ساتھ ہی یہ بھی ہے کہ قانون کو ہاتھ میں لے کر لڑائی بھی نہیں کرنی۔پھر ایک جگہ اس بارے میں مزید وضاحت فرماتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ :