خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 116 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 116

خطبات مسرور جلد 15 116 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 17 مارچ 2017 اپنی حکومت اور طاقت کے بل بوتے پر جسے یہ اپنی کامیابی سمجھ رہے ہیں انہیں یاد رکھنا چاہئے کہ ایک دن اللہ تعالیٰ کے حضور بھی حاضر ہونا ہے اور وہاں ان ظلموں کا جواب بھی دینا ہو گا۔مسلمانوں کی حالت بھی اس وقت عجیب ہوئی ہوئی ہے۔ایک طرف تو نام نہاد مولویوں کا طبقہ ہے یا شدت پسند لوگوں کا طبقہ ہے جس نے جیسا کہ میں نے کہا ہر طرف اسلام کے نام پر اپنوں اور غیروں کے خلاف فساد برپا کیا ہوا ہے۔اور دوسری طرف وہ لوگ ہیں جو اُن کے رد عمل کے طور پر یا مغربی اور دنیاداری کے اثر کے تحت مذہب سے لا تعلق ہیں۔اعتماد سے اسلامی تعلیم کی خوبیوں کو بیان کرنے کے بجائے یالا تعلق ہیں یا خوفزدہ ہیں۔بعض چیزوں میں اسلامی تعلیم کی خوبیوں کو بیان کرنے کے بجائے اور دنیاداروں کی باتوں کو غلط کہنے کی بجائے ان کی ہاں میں ہاں ملا دیتے ہیں اور اسلامی تعلیم کی غلط تو جیہیں اور وضاحتیں پیش کرتے ہیں کہ یہ نہیں، اس کا مطلب تو یہ تھا یا یہ تھا۔ان لوگوں پر دنیا کا خوف اللہ تعالیٰ کے خوف پر غالب ہے۔اسی طرح بعض سیاستدان حکمران ہیں۔دین سے ان کا لوگوں کا کچھ واسطہ نہیں ہے۔وہ اگر مولوی سے متفق نہ بھی ہوں تو اپنی کرسی کے چھن جانے کے خوف سے کہ کہیں مولوی لوگوں کو ہمارے خلاف نہ بھڑ کا دے یہ بزدلی اور اپنی دنیاوی اغراض کی وجہ سے جو اُن پر غالب آ جاتی ہیں، خاموش ہیں۔گویا کہ مسلمانوں میں سے ہر وہ طبقہ جس نے اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے کا انکار کیا وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حکموں سے دور چلا گیا ہے۔چاہے وہ مذہب کے نام پر اپنی دوکان چمکانے والے مولوی ہیں۔الزام تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو دیتے ہیں کہ نعوذ باللہ آپ نے مسیح اور مہدی ہونے کا دعویٰ کر کے دوکانداری بنائی ہوئی ہے لیکن حقیقت میں ان لوگوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی مخالفت کو آسان کمائی اور دکان چمکانے کا ذریعہ بنایا ہوا ہے۔دلیل ان کے پاس ہے کوئی نہیں جس کی وجہ سے آپ اکثر دیکھیں گے کہ گالیاں ہی دیتے ہیں۔بہر حال مذہب کے نام پر یہ دوکانداری کرنے والا طبقہ ہے یاد نیا داری کی خاطر مذہب کو ثانوی حیثیت دینے والا طبقہ ہے یہ سب لوگ نام کے مسلمان ہیں۔اسلام کی حقیقی تعلیم سے ان کا کوئی بھی واسطہ نہیں ہے۔ایسے حالات میں احمدیوں کو سوچنا چاہئے کہ جب انہوں نے زمانے کے امام کو مانا ہے تو ان پر بہت بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔مخالفین نے ان پر ظلم تو کرنے ہی ہیں اور اسی طرح مذہب سے دور ہٹے ہوئے جو لوگ ہیں اور خدا تعالیٰ کا انکار کرنے والے جو ہیں انہوں نے بھی اس وقت ہماری مخالفت کرنی ہے جب ہم ان کی ان باتوں کے خلاف بات کریں گے جو وہ آزادی کے نام پر غلط باتیں کرتے ہیں یا قوانین بناتے ہیں، تب ان لوگوں نے ہمارے خلاف ہونا ہے۔پس کیا ایسے میں ہم خوفزدہ ہو کر چپ ہو جائیں یا ایمانی کمزوری دکھاتے ہوئے ان کی ہاں میں ہاں ملانے لگ جائیں۔اگر ہم نے بھی ایسا ہی کرنا ہے تو پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت میں آنے کا کیا