خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 113
خطبات مسرور جلد 15 113 11 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 17 مارچ2017 خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 17 مارچ 2017ء بمطابق 17 امان 1396 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح، مورڈن، لندن، یوکے تشہد و تعوذ اور سورہ الفاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ان آیات کی تلاوت فرمائی: آجکل ہم دیکھتے ہیں کہ مغربی اور ترقی یافتہ دنیا میں انتہائی دائیں بازو کی سیاسی جماعتیں یاFar-rights جسے کہتے ہیں یا نسل پرست یا قوم پرست سیاستدانوں کی اور پارٹیوں کی پذیرائی بڑی بڑھتی جارہی ہے۔ان کی اہمیت بڑھتی جارہی ہے۔تجزیہ نگار بھی اس بارے میں بہت کچھ لکھتے ہیں کہ جو موجودہ حکومتیں ہیں جو بائیں بازو کی حکومتیں کہلاتی ہیں یا امیگریشن پالیسیز میں اتنی زیادہ سخت نہیں ہیں ان حکومتوں کی امیگریشن پالیسیز کی وجہ سے یہ سب کچھ ہو رہا ہے اور اس کے علاوہ بھی کچھ وجوہات ہیں۔لیکن ان سب باتوں کی تان آکر مسلمانوں پر ٹوٹتی ہے کہ مسلمانوں کو ان ممالک میں آنے پر Ban ہونا چاہئے۔ان کو روکا جانا چاہئے کیونکہ یہ ہمارے اندر جذب نہیں ہوتے اور علیحدہ رہتے ہیں اور اپنے مذہب اسلام پر عمل کرتے ہیں جو کہ اُن کے خیال میں شدت پسندی کا مذہب ہے۔یا پھر یہ کہا جاتا ہے کہ اگر یہاں ہمارے میں رہنا ہے تو ان کو اپنا مذہب اور اپنی روایات کو چھوڑ کر ہمارے طریقوں اور ہمارے رہن سہن کو اپنانا ہو گا۔اگر اس طرح نہیں کرتے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ ہمارے اندر جذب ہو نا نہیں چاہتے اور جب اپنی انفرادیت یا مذہبی حیثیت قائم رکھتے ہیں یار کھنا چاہتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے ملک کے لئے خطرناک ہو سکتے ہیں۔عجیب جاہلانہ باتیں ہیں کہ مسلمانوں کی مسجد کے مینار ہمارے لئے خطرہ ہیں۔ان کی عورتوں کے حجاب ہمارے لئے خطرہ ہیں۔ان کی عورتوں کا مردوں سے مصافحہ نہ کرنا یا مردوں کا عورتوں سے مصافحہ نہ کرنا ہمارے لئے خطرہ ہے۔یہاں یو کے میں تو اسکا ڈ کا سیاستدان ہی شاید اس قسم کی باتیں کرتے ہوں لیکن دوسرے ممالک میں اس بارے میں بہت شور ہے اور پھر ہر روز سیاستدانوں کے اس بارے میں بیان آرہے ہیں۔اور پھر یہ دلیل بھی دیتے ہیں کہ دیکھو مسلمانوں کا ہمارے لئے خطرہ ہونا اس بات سے بھی ثابت ہو تا ہے کہ مسلمان ممالک میں شدت پسندی اور لاقانونیت انتہا کو پہنچی ہوئی ہے اور یہاں ہمارے ملک میں بھی شدت پسندوں کے حملے