خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 114
خطبات مسرور جلد 15 114 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 17 مارچ 2017 مسلمانوں کی طرف سے ہی زیادہ تر ہو رہے ہیں۔ان کی باقی باتیں تو اسلام کی مخالفت میں ہیں لیکن بد قسمتی سے یہ بات ان کی صحیح ہے کہ مسلمان ممالک میں شدت پسندی ہے اور یہاں حملے بھی ہو رہے ہیں اور یہ بات جو ہے ، یہ اعتراض جو ہے یہ بھی، جیسا کہ میں نے کہا، مسلمانوں کی طرف سے ان کے ہاتھ میں دیا گیا ہے کیونکہ مسلمان ممالک میں دہشتگردی بھی بہت زیادہ ہے، شدت پسندی بھی ہے اور یہاں حملے بھی ہو رہے ہیں۔قطع نظر اس کے کہ شدت پسند گروہوں اور مسلمان ممالک میں باغی گروہوں کو ہتھیار مغربی ممالک سے ہی ملتے ہیں اور اپنے مقاصد حاصل کرنے کے لئے اور اسلام کے خلاف جو بغض ہے اس کے اظہار کے لئے بعض طاقتوں نے بڑی ہوشیاری سے ان گروہوں کو منظم کیا ہے۔ایک طرف حکومتوں کو ظاہری اور خفیہ مدد دی جارہی ہے اور دوسری طرف باغیوں کی اور اسی طرح شدت پسند گروہوں کی کسی نہ کسی طریقے سے مدد کی جاتی ہے۔اگر یہ مدد نہ ہو تو کوئی گروہ یا حکومت اتنا لمبا عرصہ لڑائی نہیں لڑسکتے۔بد قسمتی یہ ہے کہ مسلمانوں کو جب بھی نقصان پہنچا ہے مسلمانوں کے اپنے عمل اور سازشوں اور بغاوتوں اور ایک دوسرے کے حق ادا نہ کرنے اور ذاتی مفادات کو قومی اور ملتی مفادات پر ترجیح دینے سے ہی پہنچا ہے۔اسلام کی تعلیم کو بھولنے اور اپنے مقصد کو نظر انداز کرنے سے ہی پہنچا ہے۔بجائے اس کے کہ اپنی روحانی حالت کو بہتر کرتے اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حکموں کی پیروی کرتے دنیا کے لالچ اور دنیاوی و جاہت اور مقاصد حکمرانوں کے بھی، دوسرے سیاستدانوں کے بھی اور علماء کی بھی ترجیح بن گئے ہیں اور علماء نے اُمت کو مزید ظلمت کی گہرائیوں میں دھکیلنے میں اپنا کر دار مذہب کی آڑ میں ادا کیا ہے اور کر رہے ہیں۔بجائے اس کے کہ زمانے کی حالت کو دیکھتے ہوئے اور اللہ تعالیٰ کے وعدوں کو سامنے رکھتے ہوئے ان حالات کا جو تقاضا تھا ان پر غور کرتے اور یہ دیکھتے کہ ہم ایسے حالات میں اس شخص کی تلاش کریں جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی بتادیا تھا کہ ایسے حالات میں وہ ایمان کو شریا سے واپس لائے گا اور اسلام کی ساخت کو اور مسلمانوں کے ایمان کو دوبارہ قائم کرے گا۔یہ لوگ نہ صرف اس بات سے لا پرواہ ہو گئے بلکہ اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے کی مخالفت میں اس قدر بڑھ گئے کہ دنیا کے ہر مسلمان ملک میں جا جا کر بلکہ غیر مسلموں میں بھی جا جا کر اس کے خلاف بغض و عناد اور دشمنی کی ایسی انتہا کی جس کی کوئی حد نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے وعدے کے مطابق جس کو بھیجا تھا اس کے ماننے والوں پر بھی ظلم و تعدی کی انتہا کر دی۔پاکستان میں تو قانون کی آڑ میں یہ ظلم و تعدی کے بازار گرم ہیں۔وہاں تو کئی سالوں سے، بلکہ کئی دہائیوں سے کہنا چاہئے ، ہو ہی رہا ہے۔بعض اور اسلامی ممالک میں بھی ملاں کے خوف اور ظالم افسروں کی وجہ سے احمدی مشکلات کا شکار رہے اور ہو رہے ہیں یا ان کو گزرنا پڑا۔بعض جگہ اب نسبتاً حالات بہتر بھی ہو رہے