خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page xiv
vi خطبات مسرور جلد 15 خلاصہ خطبات حصول کے لئے کوشش کر رہے ہیں یا نہیں؟ جماعتی تقریبات میں شامل ہونے والے غیر مسلم مہمانوں کو جب حقیقی اسلامی تعلیمات سے آگاہ کیا جاتا ہے تو اس کا ان پر گہرا اثر ہوتا ہے۔بعض مہمانوں کے ایسے تاثرات کا تذکرہ۔کتاب “اسلامی اصول کی فلاسفی” کے غیروں پر گہرے اثرات کا تذکرہ۔اب حقیقی علم اور اسلام کی صحیح تصویر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا علم کلام پڑھ کر ہی مل سکتی ہے۔یادر کھیں جو فیصلے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کئے ہیں وہی اصل فیصلے ہیں اور آپ کے علم کلام کی بنیاد پر جو تفسیر میں جماعت میں خلفاء نے کی ہیں وہی حقیقی تفسیریں ہیں، انہیں پڑھیں اور اپنا علم بڑھائیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس زمانے کے حکم اور عدل بن کر آئے تھے۔ہمیں یہ بات ہر وقت اپنے سامنے رکھنی چاہئے۔پہلی بات تو یہ کہ ہمیں کسی احساس کمتری کا شکار ہونے کی ضرورت نہیں۔دوسری بات یہ بھی یادرکھنی چاہئے کہ جو لٹریچر اور کتب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے چھوڑا ہے اس کو پڑھنا اور اس سے علم حاصل کرنا حقیقی اسلام کے بارے میں ہمیں بتاتا ہے۔پس جہاں خود پڑھیں وہاں دوسروں کو بھی دیں جن کے ساتھ گہر اواسطہ ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی کتب اور ارشادات میں ہر قسم کے سوالوں کے جواب دیئے ہوئے ہیں۔اس لئے میں نے یہ کہا تھا اور میں کہتا ہوں کہ مطالعہ کرنا چاہئے۔اسلام کی برتری ثابت کرنے کے لئے ہمیں اس مطالعہ کی بہت ضرورت ہے۔فقہی مسائل ہیں یا روز مرہ کے معاملات سے تعلق رکھنے والی باتیں ہیں یا علمی مسائل ہیں یہ سب باتیں ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے لٹریچر میں مل جاتی ہیں اور خلفاء نے اس کو مزید کھول کر بیان کیا ہے۔پس اس طرف توجہ کرنے کی ضرورت ہے اسے پڑھیں اور اس پر غور کریں۔خطبہ: 17 مورخہ 28 اپریل خلاصہ: حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمیں بتایا کہ ہر قسم کی شدت پسندی اور دہشت گردی اور ظلم اسلام کی تعلیم کے خلاف ہے۔اگر بعض لوگوں کے فعل یا ان کی حرکتیں اسلام کے نام پر دنیا میں فتنہ و فساد پیدا کرنے کی کوشش کرنے والی ہیں تو یہ اس تعلیم کی وجہ سے نہیں جو اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو دی ہے بلکہ اس تعلیم سے دور ہونے کی وجہ سے ہے اور اس زمانے میں اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے فرستادے اور آنحضرت صلی اللہ یکم کے غلام صادق کو نہ ماننے کی وجہ سے ہے۔جب اس تعلیم کی روشنی میں دنیا کو امن ، بھائی چارے، صلح اور آشتی کا راستہ دکھاتے ہیں تو بے اختیار اکثر شریف الطبع غیر مسلموں کے منہ سے یہ الفاظ نکلتے ہیں کہ اسلام کی تعلیم تو بڑی خوبصورت تعلیم ہے۔چنانچہ اس بات کا اظہار میرے جرمنی کے اس دورے کے دوران بھی مختلف فنکشنز میں ہوا جو مسجدوں کے افتتاح اور سنگ بنیاد کے موقع پر تھا۔جرمنی کے حالیہ دورہ کے دوران مساجد کے افتتاح اور سنگ بنیاد کی تقریبات میں شامل ہونے والے مہمانوں کے بعض تاثرات کا تذکرہ۔جرمنی کے حالیہ دورہ کے دوران مساجد کے افتتاح اور سنگ بنیاد کی وسیع پیمانے پر میڈیا کوریج۔ریڈیو، ٹی وی، اخبارات اور سوشل میڈیا کے ذریعہ ایک اندازے کے مطابق 39 ملین افراد تک اسلام کا پیغام پہنچا۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے یو کے میں اسلام کی حقیقی تعلیم کو پھیلانے کا وسیع پیمانے پر کام ہو رہا ہے اور جماعت کا بڑا تعارف ہوا ہے۔یہاں یو کے میں جماعتی فنکشنز کے ذریعہ دنیا بھر میں اسلام کا تعارف ہوتا ہے۔ماہ مارچ 2017ء میں یو کے میں ہونے والی پیس کا نفرنس کی میڈیا کوریج اور اس میں شامل ہونے والے مہمانوں کے تاثرات کا تذکرہ۔الجزائر اور پاکستان اور دنیا کے ان ممالک کے احمدیوں کے لئے جہاں احمدیت کے خلاف زیادہ جوش اُبل رہا ہے خاص طور پر دعا کی تحریک۔خطبہ:18 مورخه : 05 مئی بمقام: بیت الفتوح لندن۔بمقام: بیت الفتوح - لندن صفحہ: 199-186 صفحہ : 211-200 خلاصہ: ہم حقیقی احمدی اُسی وقت بن سکتے ہیں جب ہم عارضی اور دنیاوی خواہشات اور لذات کو اپنا مقصد نہ بنائیں۔قرآن و حدیث اور