خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 111 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 111

خطبات مسرور جلد 15 111 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 10 مارچ 2017 پہلے اپنی اصلاح کی کوشش کرنی چاہئے ، اپنا جائزہ لینا چاہئے کہ کہیں میرے میں یہ برائی ہے تو نہیں۔یہ ٹھیک کہہ رہا ہے یا صحیح کہہ رہا ہے۔یہ بات بھی انصاف کے تقاضے پورے کرنے کے لئے ضروری ہے۔افراد جماعت سے میں یہ کہنا چاہوں گا کہ وہ بھی اپنے تقویٰ کے معیار بڑھائیں۔نیکی اور تقویٰ میں تعاون کا انہیں بھی حکم ہے۔اگر افراد جماعت کے نیکی اور تقویٰ کے معیار زیادہ ہوں گے تو عہدیدار خود بخود نیکی اور تقویٰ پر چلنے والے ملتے جائیں گے۔پس ہر شخص کو اپنا جائزہ لینے کی بھی ضرورت ہے کہ اس کی نیکی اور تقویٰ کے کیا معیار ہیں اور کیا وہ اس میں اضافے کی کوشش کر رہا ہے یا نہیں۔ہر فرد جماعت کو اپنا فرض بھی پورا کرنا چاہئے جو اس کے ذمہ اطاعت کے حوالے سے کیا گیا ہے۔یہ ایک بڑا فرض ہے جو ہر فرد جماعت کے سپر د بھی ہے کہ تم اطاعت کرو۔آپ کی اطاعت کے نمونے جہاں آپ کو جماعت سے تعلق میں بڑھائیں گے ، وہاں آپ کی نسلوں کو بھی جماعت سے منسلک رکھیں گے۔اگر نسلوں کے تقویٰ کے، نیکی کے معیار بلند ہوں اور بڑھتے چلے جائیں تو پھر آئندہ نسلوں میں تقویٰ پر چلنے والے عہدیدار بھی ملتے چلے جائیں گے۔پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد بھی اپنے دلوں میں قائم کریں اور اپنی نسلوں کے دلوں میں بھی بٹھا دیں کہ ہم نے اپنا فرض ادا کرنا ہے اور تنگدستی اور خوشحالی اور خوشی میں اور ناخوشی اور حق تلفی اور ترجیحی سلوک غرض ہر حالت میں حاکم وقت کے حکم کو سننا اور اطاعت کرنی ہے۔(ماخوذ از صحیح البخارى كتاب الفتن باب قول النبى الله الله سترون بعدی اموراً تنكرونهاحدیث 7056) جماعت میں کوئی دنیاوی حاکم تو ہے نہیں لیکن نظام جماعت کی اطاعت بھی اسی روح سے ہونا ضروری ہے کہ چاہے ہمارے خلاف بات ہے یا ہمارے حق میں ہے ہم نے اطاعت کرنی ہے اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرنی ہے، اور اگر سمجھتے ہیں کہ انصاف نہیں ہے تو یہ کوشش کرنی ہے کہ اگر خلیفہ وقت تک یا بالا حکام تک پہنچایا جاسکتا ہے تو بات پہنچانی ہے۔لیکن کسی بھی طرح کی بغاوت نہیں ہونی چاہئے۔ہمیشہ ہر وقت یہ دعا کرتے رہیں کہ ہمیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے مطابق دینی طور پر بھی اور دنیاوی طور پر بھی ایسے نگران عہدیدار اور حاکم ملیں جو ہم سے محبت کا سلوک کرنے والے ہوں اور جن سے ہم محبت رکھتے ہوں۔وہ ہمارے لئے دعائیں کرنے والے ہوں اور ہم ان کے لئے دعائیں کرنے والے ہوں اور پھر ہم اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کے موجب بنیں جس کے بارے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن فرمائے گا کہ کہاں ہیں وہ لوگ جو میرے جلال اور میری عظمت کے لئے ایک دوسرے سے محبت کرتے تھے۔آج جبکہ میرے سائے کے علاوہ کوئی سایہ نہیں میں انہیں اپنے سایہ رحمت میں جگہ دوں گا۔(صحیح مسلم كتاب البر والصلة والآداب باب في فضل الحب في الله تعالیٰ حدیث 2566)