خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 110 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 110

خطبات مسرور جلد 15 110 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 10 مارچ 2017 یہ دیکھیں کتنا سخت اندار ہے اور انسان کو ہلا دینے والا ہے۔اگر خدا تعالی اور آخرت پر یقین ہو تو ہر عہدیدار اپنا ہر کام انتہائی خوف کی حالت میں کرے۔ایک موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت کے دن اللہ تعالی کولوگوں میں سے زیادہ محبوب اور اس کے زیادہ قریب انصاف پسند حاکم ہو گا اور سخت نا پسندیدہ اور سب سے زیادہ دور ظالم حاکم ہو گا۔(سنن الترمذی ابواب الاحكام باب ما جاء في الامام العادل حدیث 1329) پس اپنی ذمہ داریوں کو انتہائی باریکی سے ادا کرنے کی کوشش کرنی چاہئے تبھی انصاف کے تقاضے بھی پورے ہو سکتے ہیں۔اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ جو حاجتمندوں، ناداروں، غریبوں کے لئے اپنا دروازہ بند رکھتا ہے اللہ تعالیٰ بھی اس کی ضروریات کے لئے آسمان کا دروازہ بند کر دیتا ہے۔(سنن الترمذی ابواب الاحكام باب ما جاء فى امام الرعية حديث 1332) پس امیر سے لے کر ایک چھوٹے سے حلقے کے عہدیدار تک ہر ایک عہدیدار کا کام ہے کہ نظام جماعت جو خلیفہ وقت کے گرد گھومتا ہے اور عہدیدار اس کی نمائندگی میں ہر جگہ مقرر کئے گئے ہیں اپنے فرائض پورے کریں۔خدا تعالیٰ سے ہمیشہ اس کا فضل مانگتے رہیں۔اسی طرح ذیلی تنظیموں کے عہدیدار بھی اپنی ذمہ داریاں سمجھیں۔ذیلی تنظیمیں بھی، انصار بھی، لجنہ بھی، خدام بھی، ہر سطح پر فقال ہوں۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا مقصد تنظیموں کے قیام کا یہ تھا کہ جماعت کا ہر طبقہ فعال ہو جائے اور مختلف ذرائع سے جماعت کی ترقی کی کوشش ہوتی رہے اور افراد جماعت کے ہر طبقہ تک پہنچا جا سکے۔عورتوں تک بھی، بچوں تک بھی، نوجوانوں تک بھی، بوڑھوں تک بھی تا کہ خلیفہ وقت کو ہر ذریعہ سے خبر بھی پہنچتی رہے۔اس بارے میں بھی اس کو علم ہو تا رہے کہ جماعت کی کیا حالت ہے۔پس ہر عہد یدار جو ہے، وہ خدمت دین کو اللہ تعالیٰ کا احسان سمجھتے ہوئے کرے اور ایک دوسرے سے تعاون بھی کریں۔نظام جماعت صدران، امراء اور ذیلی تنظیموں کا بھی ایک دوسرے سے باہمی تعاون ہو نا چاہئے۔اگر یہ باہمی تعاون ہو اور تمام ذیلی تنظیمیں اور جماعتی نظام بھی فعال ہو تو جماعت کی ترقی کی رفتار کئی گنا بڑھ سکتی ہے۔پس اس بات کو ہمیشہ سامنے رکھنا چاہئے۔ایک بات یہ بھی ہر عہدیدار یاد رکھے کہ اگر کسی کے اپنے خلاف بھی شکایت ہو ، کسی عہدیدار کے خلاف اس کو یا اس کے خلاف اس کو شکایت پہنچے یا اس کے خلاف کوئی اس کے سامنے بات کرے تو اس کو سننے کا حوصلہ ہونا چاہئے۔عہدیداروں میں سب سے زیادہ بر داشت ہونی چاہئے اور بات کرنے والے سے بدلہ لینے کی بجائے سب سے