خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 109
خطبات مسرور جلد 15 109 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 10 مارچ 2017 کھلے ہوں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اُسوہ ہمیں ہمیشہ اپنے سامنے رکھنا چاہئے۔روایت میں آتا ہے کہ آپ ہمیشہ مسکرا کر ملا کرتے تھے۔(صحيح البخارى كتاب الادب باب التبسم والضحك حديث 6089) اسی طرح بعض لوگوں کو یہ بھی شکوہ ہوتا ہے کہ ہمارا کوئی معاملہ جماعتی نظام کے پاس جاتا ہے تو پھر مہینوں اس کا پتا نہیں چلتا حالانکہ میں گزشتہ سال میں بھی کئی دفعہ خطبہ میں اس بارے میں یاد دہانی کر اچکا ہوں۔معاملات کو نپٹانے میں جلدی کیا کریں۔لٹکایا نہ کریں۔دوسرے اگر معاملہ کسی وجہ سے مجبوراً لمبا ہو رہا ہے جس کی بعض دفعہ جائز وجہ ہوتی ہے تو جو ضروری تحقیق تھی اگر وہ مکمل نہیں ہو رہی تو پھر متاثرہ فریق کو یا شکایت کنندہ کو یا اگر دونوں فریقین ہیں تو ان کو بتادیں کہ کچھ دیر لگے گی۔ان کے خط کو بہر حال acknowledge کرنا چاہئے۔اگر متاثرین کو جواب دے کر تسلی کروا دی جائے اور عہدیدار خاص طور پر صدر اور امراء مسکراتے چہرے کے ساتھ لوگوں کو ملیں تو متاثرہ فریق کی آدھی کوفت دور ہو جاتی ہے اور آدھے شکوے ختم ہو جاتے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تو ہمیں چھوٹی سے چھوٹی بات سمجھا دی کہ کیسے ہمارے اخلاق ہونے چاہئیں۔اگر ان پر عمل کریں تو صد ران، امراء اور عہدیداران سے جو لو گوں کو یہ شکوہ ہوتا ہے کہ ان کے رویے سے بے چینیاں پید اہوتی ہیں، وہ بے چینیاں پیدا نہ ہوں۔دوسروں سے خوش خلقی سے پیش آنے کے بارے میں ایک دفعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ معمولی نیکی کو بھی حقیر نہ سمجھو چاہے وہ اپنے بھائی سے خندہ پیشانی سے پیش آنے کی نیکی ہو۔(صحیح مسلم کتاب البر والصلة والآداب باب استحباب طلاقة الوجه عند اللقاء حديث 2626) اللہ تعالیٰ تو ہر عمل کی جزا دیتا ہے۔خوش خلقی سے پیش آنا بھی انسان کی نیکیوں میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔پس ہر ایک کو ہر ذریعہ سے اپنی نیکیوں کے پلڑے کو بھاری رکھنے کی کوشش کرنی چاہئے۔عہدیداروں کو ہمیشہ یہ یاد رکھنا چاہئے کہ جماعت کا کوئی عہدہ بھی کسی قسم کی بڑائی پیدا کرنے کے لئے نہیں ہے بلکہ عاجزی میں بڑھانے کے لئے ہے۔اس لئے ہر فیصلہ اور ہر کام اللہ تعالیٰ کا خوف دل میں رکھتے ہوئے اور انتہائی عاجزی سے انصاف کے تقاضے پورے کرتے ہوئے کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔آنحضرت صلی اللہ عل مد علیہ وسلم نے صاحب اختیار اور حاکموں کو جو تنبیہ فرمائی ہے اگر ہر عہدیدار اسے سامنے رکھے تو یقیناً اپنے کام کے معیار اور انصاف کے تقاضے پورے کرنے میں کئی گنا اضافہ ہو سکتا ہے۔ایک موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس کو اللہ تعالیٰ نے لوگوں کا نگران اور ذمہ دار بنایا ہے وہ اگر لوگوں کی نگرانی اور اپنے فرائض کی ادائیگی اور ان کی خیر خواہی میں کو تاہی کرتا ہے تو اس کے مرنے پر اللہ تعالیٰ اس کے لئے جنت حرام کر دے گا۔(صحيح البخارى كتاب الاحكام باب من استرعى رعية فلم ينصح حديث 7151)