خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 108
خطبات مسرور جلد 15 108 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 10 مارچ 2017 پھر ہر معاملے میں خدا تعالیٰ کے آگے ہی جھکنا ہے اور لوگوں کے رویوں کی کچھ پرواہ نہیں کرنی۔یعنی انسان تو ویسے ہی ہمیشہ خدا تعالیٰ کے آگے ہی جھکتا ہے اور جھکنا چاہئے لیکن یہاں مراد یہ ہے کہ پھر یہ نہیں دیکھنا کہ عہدیدار کیا کہہ رہے ہیں۔اگر کوئی شکوے اور ایسی باتیں پیدا بھی ہو جائیں تب بھی بجائے بندوں سے اظہار کرنے کے خدا تعالیٰ کے آگے جھکنا ہے۔لوگوں کے رویوں کی پرواہ نہیں کرنی۔ایک واقف زندگی زندگی بھر کا وقف کرتا ہے۔اس نے اپنی زندگی اللہ تعالیٰ کے دین کی خاطر کام کرنے کے لئے پیش کر دی جبکہ ایک عہدیدار چند سال کے لئے عارضی طور پر عہدیدار بنایا جاتا ہے۔پس اگر وہ یعنی عہدیدار جماعت کے لئے مفید وجود نہیں بنتا اور تعاون کی بجائے مسائل پیدا کرتا ہے تو خدا تعالیٰ سے دعا مانگیں کہ ایسے عہدیدار سے اللہ تعالیٰ جان چھڑا دے۔کیونکہ مربیان کی یہ بھی ذمہ داری ہے کہ عہدیداروں کے لئے دعا بھی کیا کریں کہ وہ صحیح رستے پر چلنے والے ہوں۔اللہ تعالیٰ عالم الغیب بھی ہے اور سب طاقتوں کا مالک بھی ہے۔اس کے نزدیک اگر عہدیدار کو اس کے عہدہ سے ہٹانا بہتر ہو تو یہ کر دے گا اور اگر اللہ تعالیٰ کی نظر میں اس عہدیدار کی بعض دوسری خوبیوں کی وجہ سے خدمت میں رہنا بہتر ہے تو یہ کمزوریاں جو بعض مسائل پیدا کرتی ہیں اللہ تعالیٰ اس دعا کو قبول کرتے ہوئے ان کی اصلاح کر دے گا۔تو یہ اللہ تعالیٰ کا کام ہے۔مربی نے تو ہر جگہ تعاون کرنا ہے اور دعا کرنی ہے۔اسی طرح میں عہد یداروں اور مربیان دونوں کو یہ بات بھی کہنا چاہتا ہوں کہ جب ہم افراد جماعت سے یہ توقع رکھتے ہیں کہ ان کے گھروں میں عہدیداروں کے متعلق باتیں نہ ہوں یعنی منفی باتیں تو پھر صدران اور امراء اور عہدیداران اور اسی طرح مربیان کو بھی ہمیشہ اس بات کی پابندی کرنی چاہیئے کہ ان کے گھروں میں بھی ایک دوسرے کے متعلق کسی قسم کی منفی باتیں نہ ہوں۔ہاں مثبت باتیں بیشک ہوں تاکہ مربیان کی نسلوں میں بھی اور عہدیداران کی نسلوں میں بھی نظام جماعت اور واقفین زندگی اور کسی بھی رنگ میں جماعت کی خدمت کرنے والوں کا احترام پید اہو۔عہدیداران اور خاص طور پر صدران اور امراء یہ بھی یاد رکھیں کہ افراد جماعت کے لئے بھی ہمیشہ پیار اور محبت کے پر پھیلائیں۔کسی قسم کا عہدہ ملنا آپ کا کوئی حق نہیں تھا، نہ ہے۔یہ خالصہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے۔پس اللہ تعالیٰ کے اس فضل کی بڑی عاجزی سے قدر کریں اور خلیفہ وقت نے آپ پر جو اعتماد کیا ہے اور اعتماد کرتے ہوئے اس پیاری جماعت کی نگرانی کا کام سپرد کیا ہے اس کا حق ادا کرنے کی کوشش کریں۔صدر اور عہدیدار اپنی جماعت کے ہر فرد بڑے اور چھوٹے کو یہ احساس دلائیں کہ وہ محفوظ پروں کے نیچے ہے جس طرح مرغی اپنے بچوں کو پروں میں لے لیتی ہے۔ہمیشہ ہر ایک سے نرمی سے اور مسکراتے ہوئے بات کریں۔دفتر کی کرسی آپ میں تکبر کے بجائے عاجزی پیدا کرنے والی ہو۔ہر عہدیدار کے بھی اور ہر مربی کے بھی دروازے ہر شخص کے لئے