خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 107 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 107

خطبات مسرور جلد 15 107 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 10 مارچ 2017 ہے۔اسی طرح جماعت کی دینی اور روحانی بہتری اور ترقی اور اس کے لئے ممکنہ ذرائع استعمال میں لانے کی ذمہ داری مربیان کی ہے اور وہ اس معاملہ میں خلیفہ وقت کے نمائندے ہیں۔پس دونوں امراء بھی، صدران بھی، یعنی امراء اور صدران اور مربیان کا آپس کا تعاون ہونا چاہئے اور ایک سکیم کے تحت کام کرنا چاہئے تبھی جماعت کو انتظامی لحاظ سے وہ مضبوط کر سکیں گے اور روحانی اور علمی معیار بھی ترقی کرتے چلے جانے والے ہوں گے۔پہلے بھی میں مختصر ذکر کر آیا ہوں دوبارہ کہہ دیتا ہوں کہ صدر اور امیر اور تمام جماعتی عہدیداران کا کام بلکہ ذمہ داری ہے کہ مبلغین بلکہ جتنے بھی واقفین زندگی ہیں ان کا ادب اور احترام اپنے دل میں بھی پیدا کریں اور افراد جماعت کے دلوں میں بھی پیدا کریں۔ان کی عزت کرنا اور کروانا آپ لوگوں کا کام ہے تاکہ مربی اور مبلغ اور واقف زندگی کے مقام کی اہمیت واضح ہو اور زیادہ سے زیادہ نوجوان جماعتی خدمت کے لئے اپنے آپ کو پیش کریں۔بیشک خدمت دین کے لئے وقف کرنا اور مربی اور مبلغ بننا خدا تعالیٰ کی رضا کے لئے ہے لیکن یہ سمجھ بوجھ جو ہے، یہ فہم و ادراک جو ہے، یہ تدریجاً بڑھتا ہے۔نوجوان واقفین ٹو کو مکمل طور پر اپنے آپ کو اس خدمت کے لئے پیش کرنے کے لئے ظاہری محرک بھی چاہئے جو اُن کے شوق کو ابھارے۔یہ انسانی فطرت ہے اس سے انکار نہیں ہو سکتا۔اور جب وقف اور جماعتی خدمت کا ادراک پیدا ہو جائے، ( شروع میں تو محرک چاہئے ، لیکن جب یہ ادراک پیدا ہو جائے ، جب اللہ تعالیٰ کی خاطر ہر کام کرنے کی سمجھ آجائے تو پھر وقف کے ساتھ روحانی ترقی بھی ہوتی رہتی ہے۔پھر ایک واقف زندگی دنیا کی طرف یا دنیا داروں اور دنیا والوں کے سلوک کی طرف نہیں دیکھتا اور نہ دیکھنا چاہئے اور یہی ایک حقیقی وقف کی روح ہے۔پس صدران اور امراء اور عہدیداران مربیان کے ساتھ اور واقفین زندگی کے ساتھ روٹیوں میں انتہائی عاجزی اور تعاون کے جذبے کو بڑھائیں تا کہ آئندہ مربیان کا حصول آسان ہو اور نوجوانوں کے دلوں میں زیادہ سے زیادہ مربی اور مبلغ بننے اور زندگی وقف کرنے کی تحریک پیدا ہو۔جیسا کہ میں نے کہا ہمیں بہت بڑی تعداد میں مربیان چاہئیں۔واقفین کو نوجوانوں کو اور میدان عمل میں نوجوان مربیان کو بھی میں یہ کہنا چاہوں گا کہ دنیا چاہے آپ کے مقام کو سمجھے یا نہ سمجھے۔کوئی صدر، امیر یا عہدیدار بلکہ کوئی فرد جماعت بھی آپ کی عزت اور احترام کرے یانہ کرے آپ نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ قربانی کرنے کا جو عہد کیا ہے اسے نیک نیتی سے نبھاتے رہیں۔آپ کی نظر اس بات پر ہو کہ پہلے میرے ماں باپ نے پیدائش سے پہلے مجھے وقف کیا اور پھر جوانی میں قدم رکھ کر میں نے اپنے وقف کی تجدید کی اس لئے میں نے دنیا کی طرف نہیں دیکھنا بلکہ خدا تعالیٰ کی طرف دیکھنا ہے اور خد اتعالیٰ کی جماعت کی ضرورت کو دیکھنا ہے۔اس لئے میں جامعہ میں جانے کے لئے اپنے آپ کو پیش کروں گا۔اور جب مربی بن گئے تو