خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 106 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 106

خطبات مسرور جلد 15 106 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 10 مارچ 2017 یہ حوالہ دینے کا یہ مطلب نہیں کہ خدانخواستہ جماعتی عہدیداروں اور خاص طور پر صدر یا امیر اور مربی کے درمیان جماعت میں عموماً اختلافات پائے جاتے ہیں۔نہیں، ہر گز یہ بات نہیں ہے۔شاید اکا دُکا ایسے واقعات ہوتے ہیں۔کم از کم میرے علم میں سال میں ایک آدھ دفعہ ہی آتے ہیں۔یہ تمام باتیں میں نے کھول کر اس لئے بتا دی ہیں کہ صدر، امیر اور مربیان کو پتا ہو کہ ان کا کام بڑا وسیع ہے اور ایک اہم مقصد ہمارے سامنے ہے اور اگر کبھی خدانخواستہ آپس میں اختلاف پیدا ہو تو پھر وہ فوری طور پہ حل ہونا چاہئے۔کیونکہ بعض دفعہ دیکھنے میں آیا ہے کہ آپس کا اختلاف آپس تک نہیں رہتا بلکہ افراد جماعت پر بھی اس کا اثر پڑتا ہے اور شیطان، جیسا کہ پہلے بھی میں نے کہا، اس سے ناجائز فائدہ اٹھاتا ہے۔اس لئے ہمیشہ دونوں یہ بڑا مقصد اپنے سامنے رکھیں کہ جماعت کی علمی، روحانی اور انتظامی تربیت کی جو ذمہ داری ان پہ ڈالی گئی ہے وہ دونوں نے مل جل کر ادا کرنی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی بڑا واضح یہ فرمایا ہے کہ صحیح نتائج اسی وقت حاصل ہو سکتے ہیں جب آپس میں مل جل کر کام کرو۔آپ نے فرمایا کہ "جو کام دو ہاتھ کے ملنے سے ہونا چاہئے وہ محض ایک ہی ہاتھ سے انجام نہیں ہو سکتا" فرمایا کہ " اور جس راہ کو دو پاؤں مل کر طے کرتے ہیں وہ فقط ایک ہی پاؤں سے طے نہیں ہو سکتا۔" فرمایا کہ " اسی طرح تمام کامیابی ہماری معاشرت اور آخرت کے تعاون پر ہی موقوف ہو رہی ہے۔کیا کوئی اکیلا انسان کسی کام دین یاد نیا کو انجام دے سکتا ہے؟ ہر گز نہیں۔کوئی کام دینی ہو یاد نیاوی بغیر معاونت با ہمی کے چل ہی نہیں سکتا۔" (براہین احمدیہ روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 59) پھر آپ نے یہ بھی فرمایا کہ خاص طور پر وہ کام جس کا بہت بڑا اور عظیم مقصد ہے اس کے لئے تو آپس کا تعاون انتہائی ضروری ہے۔(ماخوذ از براہین احمد یہ روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 59) پس نہ ہی صدر یا امیر کو تمام اختیارات اپنے ہاتھ میں رکھ کر اپنی مرضی چلانے کی کوشش کرنی چاہئے اور نہ ہی مربیان کو اپنی رائے صحیح سمجھ کر اس پر عمل کرنے یا کروانے کی کوشش کرنی چاہئے بلکہ تعاون سے کام کریں اور کیونکہ مربی کے ذمہ جماعت کی تربیت کی ذمہ داری ہے اور جیسا کہ میں نے کہا کہ اس کا دینی علم بھی زیادہ ہے یا عموماً ہوتا ہے اور ہونا چاہئے اور اسے دینی علم کو بڑھاتے بھی رہنا چاہئے اور روحانیت کو بڑھاتے رہنے کی بھی کوشش کرتے رہنا چاہئے۔اس لئے اس کے تقویٰ کا معیار عام لوگوں سے زیادہ ہونا چاہئے۔جب اس بات کو مربیان سمجھ لیں گے اور اس کے مطابق عمل کریں گے تو عہدیداروں اور افراد جماعت کے درمیان خود بخود مر بیان کا ایک مقام بن جائے گا۔صدر جماعت یا امیر جماعت کو یاد رکھنا چاہئے کہ جہاں انتظامی سربراہ ہونے کی وجہ سے جماعت کے انتظامی نظام کو صحیح طور پر چلانے کی ان کی ذمہ داری ہے اور اس کام میں خلیفہ وقت نے ان کو اپنا نمائندہ بنایا ہوا