خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 105
خطبات مسرور جلد 15 105 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 10 مارچ 2017 کے لئے خلیفہ وقت کا نمائندہ ہونے کی حیثیت سے کام ہے وہ اسے بجالائے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مزید یہ وضاحت فرمائی کہ : " کوئی جماعت جماعت نہیں ہو سکتی جب تک کمزوروں کو طاقت والے سہارا نہیں دیتے " پس نظام جماعت اس لئے بنایا جاتا ہے کہ افراد جماعت کی روحانی علمی اور جسمانی بہتری کے لئے پروگرام بنایا جائے۔آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ " بڑا چھوٹے کی خدمت کرے اور محبت ملائمت کے ساتھ بر تاؤ کرے۔" یہ جہاں عہدیداروں اور خاص طور پر صدران اور امراء کے افراد جماعت کے ساتھ تعلق میں ضروری چیز ہے وہاں صدر جماعت اور مربی کے تعلق کے لئے بھی بڑا ضروری ہے۔نیکی اور تقویٰ کے ساتھ ایک دوسرے سے برتاؤ کی وجہ سے افراد جماعت کے سامنے نیک نمونے قائم ہوں گے جو افراد جماعت کی علمی اور روحانی ترقی کے لئے ضروری ہیں۔یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ بعض دفعہ جہاں ذرا سا بھی صدر یا عہدیداران یا مربیان کے تعلقات میں کمی ہے یا کوئی ہلکا سا بھی شکوہ آپس میں پیدا ہوا ہے تو وہاں شیطان اندر گھنے کی کوشش کرتا ہے اور نیکی اور تقویٰ کی جڑیں ملنی شروع ہو جاتی ہیں۔کچھ مربی کے ہمدرد بن کر اسے کہتے ہیں کہ تمہارے ساتھ صدر جماعت نے اچھا سلوک نہیں کیا اور کچھ لوگ صدر جماعت کو کہتے ہیں کہ مربی کو یہ رویہ نہیں اپنانا چاہئے تھا۔جن لوگوں کی اصلاح صدر جماعت اور مربی کا کام تھا ان میں سے ہی بعض صدر اور مربی کے درمیان خلیج اور دوری پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور نتیجہ لوگوں میں پھر بے چینی پیدا ہو جاتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : "دیکھو وہ جماعت جماعت نہیں ہو سکتی جو ایک دوسرے کو کھائے اور جب چار مل کر بیٹھیں تو ایک اپنے غریب بھائی کا گلہ کریں اور نکتہ چینیاں کرتے رہیں۔" فرمایا " ایسا ہر گز نہیں چاہئے بلکہ اجماع میں چاہئے کہ قوت آجاوے۔" اکٹھے ہو جاؤ۔ایک بن جاؤ تا کہ طاقت پیدا ہو۔اس میں قوت پیدا کر و اور وحدت پیدا ہو جاوے جس سے محبت آتی ہے اور برکات پیدا ہوتے ہیں۔۔۔" فرمایا کہ " اخلاقی قوتوں کو وسیع کیا جاوے اور یہ تب ہوتا ہے کہ جب ہمدردی، محبت، عفو اور کرم کو عام کیا جاوے اور تمام عادتوں پر رحم، ہمدردی اور پردہ پوشی کو مقدم کر لیا جاوے۔" انسان میں اور خاص طور پر عہد یداروں اور مربیان میں جتنی عادتیں ہیں جن کے ذمہ بہت بڑے کام ہیں ان کا یہ کام ہے۔فرمایا کہ رحم، ہمدردی اور پردہ پوشی کو ہر عادت پر حاوی کر لو۔رحم سب سے زیادہ تمہارے اند ر ہو۔دوسروں کی ہمدردی سب سے زیادہ تمہارے اندر ہو۔پردہ پوشی ایک دوسرے کی سب سے زیادہ تمہارے اندر ہو۔فرمایا کہ " ذرا ذراسی بات پر ایسی سخت گرفتیں نہیں ہونی چاہئیں جو دل شکنی اور رنج کا موجب ہوتی ہیں۔" ( ملفوظات جلد 3 صفحہ 348-347)