خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 104 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 104

خطبات مسرور جلد 15 104 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 10 مارچ 2017 مر بیان کو پہلی بات تو یہ یاد رکھنی چاہئے کہ انہوں نے انتظامی لحاظ سے جو بھی ان پر مقرر کیا گیا ہے اس کی اطاعت کرنی ہے اور اپنی اطاعت کا نمونہ دکھانا ہے اور اگر ایسے حالات پیدا ہوں تو خاموش رہنا ہے، تا کہ افراد جماعت پر کسی قسم کا منفی اثر نہ پڑے اور جماعت میں کوئی بے چینی پیدا نہ ہو۔اگر کوئی زیادتی کی بات ہے تو اپنے نیشنل امیر ، صدر کو بتائیں یا مرکز میں بتائیں۔مجھے بھی لکھ سکتے ہیں۔اسی طرح صدران اور امراء سے بھی میں یہ کہتا ہوں کہ مربیان کی عزت و احترام قائم کرنا ان کا کام ہے اور کسی بھی جماعت میں سب سے زیادہ مربی کی عزت و احترام کرنے والا اور تعاون کے ساتھ اور مشورے کے ساتھ چلنے والا صدر جماعت اور امیر جماعت کو ہونا چاہئے۔اور اسی طرح باقی عہدیداران بھی اپنے اپنے دائرے میں مربی کے ساتھ تعاون کرنے والے ہوں۔اور مربی بھی کامل عاجزی اور تقویٰ کے ساتھ صدر جماعت یا امیر جماعت سے بھر پور تعاون کرے۔مقصد تو ہمارا ایک ہے کہ افراد جماعت کی تعلیم و تربیت، نظام جماعت کا احترام قائم کرنا، خلافت سے وابستگی پیدا کرنا اور توحید کا قیام کرنا۔اسلام کی حقیقی تعلیم کو دنیا میں پھیلانا۔اس میں حدود اور اختیارات کا کیا سوال ہے۔آپس میں ایک ہو کر کام کرنا چاہئے۔اور اس بارے میں اللہ تعالیٰ کے اس بنیادی ارشاد کو سامنے رکھنا چاہئے کہ تَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى (المائدة : 3)۔یعنی نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں آپس میں ایک دوسرے کی مدد کرو۔ہر ایک جانتا ہے کہ جماعت کی خدمت چاہے وہ کسی رنگ میں بھی کرنے کی توفیق مل رہی ہو اس سے بڑی اور کوئی نیکی نہیں ہے اور خدمت کے بجالانے کے لئے تقویٰ بھی ضروری ہے۔جماعت کی خدمت میں تو تقویٰ ہی ہے جو حقیقی اور مقبول خدمت کی توفیق دے سکتا ہے۔یہ کام تو ہے ہی اللہ تعالیٰ کا خوف دل میں رکھتے ہوئے اس کی رضا حاصل کرنے کا۔پس مربیان کے لئے بھی اور عہدیداران کے لئے بھی جو حدود قائم کی گئی ہیں وہ نیکی کا حصول اور تقویٰ پر چلنا ہے تاکہ جہاں آپس میں محبت اور اخوت کے رشتے قائم ہوں وہاں جماعت کی علمی اور روحانی ترقی میں بھی دونوں اپنا اپنا کر دار ادا کر رہے ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک دفعہ فرمایا کہ: " تَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَی " کا مطلب ہے " کمزور بھائیوں کا بار اٹھاؤ۔عملی ایمانی اور مالی کمزوریوں میں بھی شریک ہو جاؤ۔بدنی کمزوریوں کا بھی علاج کرو اور یہ اسی وقت ممکن ہے جب جماعت کے افراد کادر در کھتے ہوئے جماعتی عہدیدار بھی اور مربیان بھی مل جل کر کام کریں۔عملی کمزوریوں یا ایمانی کمزوریوں میں شریک ہونے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ خود بھی ویسے ہو جاؤ۔بلکہ مطلب یہ ہے کہ عملی اور ایمانی کمزوریوں کو دور کرنے کے لئے جو صدر جماعت اور عہدیداروں کا دائرہ ہے وہ اس کے مطابق کرے اور جو مربیان کا دینی علم میں بہتر ہونے اور تربیت