خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 103 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 103

خطبات مسرور جلد 15 103 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 10 مارچ 2017 کریں۔ایسی تربیت کریں کہ ان کو جامعہ احمدیہ میں داخل ہونے کا شوق پیدا ہو۔اس وقت ربوہ اور قادیان کے علاوہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے یو کے (UK) اور جرمنی میں بھی جامعہ ہیں جن میں یورپ کے رہنے والے تعلیم حاصل کر سکتے ہیں۔کینیڈا میں جامعہ احمدیہ ہے جو وہاں با قاعدہ حکومتی ادارے سے منظور ہو چکا ہے۔وہاں بعض دوسرے ممالک سے بھی طلباء آسکتے ہیں اور آئے ہوئے ہیں، پڑھ رہے ہیں۔غانا میں جامعہ احمدیہ ہے۔اس سال وہاں بھی اُس کی شاہد کی پہلی کلاس نکلے گی جہاں اس وقت مختلف ممالک سے آئے ہوئے طلباء زیر تعلیم ہیں۔بنگلہ دیش میں بھی جامعہ احمدیہ ہے۔انڈو نیشیا میں بھی جامعہ احمدیہ کو شاہد کے کورس تک بڑھا دیا گیا ہے۔پس واقفین ٹو بچوں کو کوشش کرنی چاہئے کہ جامعات میں داخل ہوں اور جیسا کہ میں نے کہا اس کے لئے ان کے والدین کو تیار کرنا چاہئے۔ہمارے جامعات میں جتنی بھی گنجائش ہے کم از کم وہ پوری ہونی چاہئے۔تبھی ہم اس وقت جو مبلغین کی اور مربیان کی ضرورت ہے اسے پورا کر سکتے ہیں۔اس وقت میں میدان عمل میں آنے والے مربیان کے ذہنوں میں جو بعض سوالات آتے ہیں، ان کا بھی ذکر کرنا چاہتا ہوں۔اس کا وہ تذکرہ بھی کر دیتے ہیں یا پوچھتے ہیں ان مربیان اور مبلغین کو تو میں بتاتا ہی رہتا ہوں۔ان کے سوالوں کے جواب دیتا ہوں۔اس لئے یہاں ذکر ضروری ہے تا کہ جو جماعتی نظام کے عہدیدار ہیں ان کو بھی پتا چل جائے کہ آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون سے کس طرح انہوں نے کام کرنا ہے۔یعنی مربیان و مبلغین اور عہدیداروں کا تعاون۔اس میں خاص طور پر صدران ، امراء ہیں کیونکہ بعض دفعہ عہد یداروں کے ساتھ غلط فہمی کی وجہ سے بعض کھچاوٹ پیدا ہو جاتی ہے۔آپس کے تعلقات پوری طرح تعاون کے نہیں رہتے یا یہ احساس ایک فریق میں پیدا ہو جاتا ہے کہ تعاون نہیں ہے۔مربیان کے یہ سوال ہوتے ہیں کہ ہمارے کاموں میں صدر جماعت کس حد تک دخل اندازی کر سکتا ہے ؟ ہماری کیا حدود ہیں اور ان کی کیا حدود ہیں؟ بعض دفعہ مربی ایک بات کو تربیت کے لحاظ سے بہتر سمجھتا ہے اور بہتر سمجھ کر جماعت میں رائج کرنے کی کوشش کرتا ہے تو صدر جماعت کہتا ہے کہ میں نہیں سمجھتا کہ اس کو اس طرح کرنا چاہئے۔یا بعض صدران اپنے مزاج کے لحاظ سے اور ایک لمبا عرصہ صدر جماعت رہنے کی وجہ سے سمجھتے ہیں کہ جو وہ کہتے ہیں وہ ٹھیک ہے اور مربی کو ان کی مرضی کے مطابق چلنا چاہئے۔اور پھر بعض دفعہ لوگوں کے سامنے ہی، ایک مجلس کے سامنے مربی سے ایسے انداز میں جواب طلبی کرتے اور بات کرتے ہیں جو نہیں کرنی چاہئے۔اور نوجوان مربی اس بات پر پھر پریشان ہوتے ہیں یا برا مناتے ہیں یا سکی محسوس کرتے ہیں یا ہو سکتا ہے کہ آگے سے کوئی جواب بھی دے دیں۔