خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 102
خطبات مسرور جلد 15 102 10 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 10 مارچ 2017 خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 10 مارچ 2017ء بمطابق 10 امان 1396 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح، مورڈن، لندن، یوکے تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے فضل سے اب دنیا کے کئی ممالک میں جامعہ احمدیہ کا قیام ہو چکا ہے جہاں سے مربیان اپنی تعلیم مکمل کر کے میدان عمل میں آچکے ہیں اور آرہے ہیں۔پہلے صرف ربوہ اور قادیان کے جامعات ہی تھے جہاں سے شاہدین مربیان مہیا ہوتے تھے۔گزشتہ دنوں میں یہاں یو کے (UK) کے جامعہ احمدیہ میں بھی جامعہ احمدیہ سے پاس ہونے والوں کی convocation ہوئی جو کینیڈا اور یو کے (UK) کے جامعات کے پاس ہونے والے طلباء کی مشترکہ convocation تھی۔شاہد کی ڈگری لے کر اپنے آپ کو بطور مربی خدمت کے لئے پیش کرنے والے یہ لوگ وہ ہیں جو یہاں مغربی ماحول میں پلے بڑھے اور اپنے سکول کی تعلیم مکمل کر کے اپنے آپ کو جامعہ کی تعلیم کے لئے پیش کیا اور کامیاب ہوئے۔ان کی اکثریت بلکہ تقریباً تمام ہی وہ ہیں جو وقف نو کی تحریک میں شامل ہیں۔مغربی ممالک میں رہتے ہوئے جہاں دنیا داری اور دنیاوی چمک دمک عروج پر ہے، اپنے آپ کو وقف کر کے اللہ تعالیٰ کے دین کے سپاہیوں میں شامل ہونے کے لئے پیش کرنا یقینا ان کی سعادتمندی اور دین کو دنیا پر مقدم کرنے کے عہد کو پورا کرنے کا اظہار ہے۔لیکن یہ یاد رکھنا چاہئے کہ یہ اللہ تعالیٰ کے فضل کے بغیر ممکن نہیں۔اس لئے ان کو بھی اور جو اس وقت مغربی ممالک کے جامعات میں پڑھ رہے ہیں اُن کو بھی یا عام جامعات میں، عام سے مراد کہ دوسرے ممالک میں، جو پڑھ رہے ہیں اُن کو بھی اپنے اندر عاجزی پیدا کرتے ہوئے خالصہ اسے اللہ تعالیٰ کے فضل کا باعث سمجھنا چاہئے اور اس کے آگے جھکتے ہوئے اس کے فضل کی تلاش ہمیشہ کرتے رہنا چاہئے۔اسی طرح میں نے جامعہ احمدیہ کی convocation میں بھی کہا تھا کہ جماعت کو مربیان اور مبلغین کی ضرورت ہے اور یہ ضرورت بہت بڑھ رہی ہے بلکہ بڑھ گئی ہے اس لئے زیادہ سے زیادہ واقفین کو کو جامعہ احمدیہ میں تعلیم حاصل کرنے کے لئے آنا چاہئے۔والدین بچپن سے ہی لڑکوں کو اس طرف توجہ دلائیں اور ان کی تربیت