خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 100 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 100

100 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 03 مارچ2017 خطبات مسرور جلد 15 نمازوں کی طرف توجہ دلاتے اور نماز باجماعت پڑھاتے۔شادی سے لے کر آخری وقت تک جماعتی کاموں میں مصروف رہے۔لوگوں کے مسائل حل کرنا اور مالی امداد کرنا بھی ان کی عادت میں شامل تھا۔بہت نیک، سادہ طبع اور با اخلاق انسان تھے۔ان کے حلقے کے قائمقام صدر جماعت لکھتے ہیں کہ آپ کی ایک اچھی عادت یہ تھی کہ ہر خطبہ جمعہ کے بارے میں عشاء کی نماز کے بعد بچوں سے سوال پوچھتے اور صحیح جواب پر انعام بھی دیتے۔اس سے بچوں میں خطبہ سننے کا شوق پیدا ہو تا تھا۔جماعتی کاموں کی بہت فکر رہتی تھی۔یہ دو جنازے حاضر ہیں جو میں نے ابھی اعلان کئے۔دو جنازے غائب ہیں۔ان میں سے ایک جنازہ ڈاکٹر مرزا لئیق احمد صاحب کا ہے جو محترم صاحبزادہ مرزا حفیظ احمد صاحب کے بیٹے، حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پوتے تھے۔28 فروری 2017ء کو دوپہر کے وقت حرکت قلب بند ہونے کی وجہ سے طاہر ہارٹ انسٹیٹیوٹ میں 68 سال کی عمر میں وفات پاگئے۔اِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔آپ کی والدہ بھی ابھی زندہ ہیں، حیات ہیں۔اللہ تعالیٰ ان کو بھی یہ صدمہ برداشت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔انہوں نے F۔Sc تک ربوہ میں تعلیم حاصل کی اس کے بعد ملتان سے میڈیکل کالج سے ایم۔بی۔ایس کیا۔ربوہ میں ہی اپنی پریکٹس کرتے تھے۔غریبوں کا بڑا خیال رکھنے والے اور یہ اکثر غرباء نے ہی لکھا کہ ہمارا بہت زیادہ ہمدردی سے خیال رکھتے تھے بلکہ ہفتہ میں ایک دن انہوں نے غرباء کے لئے مفت علاج کا اور خیال رکھنے کا وقف کیا ہوا تھا اور اس کے علاوہ بھی کارکنوں اور غرباء کا مفت علاج کیا کرتے تھے۔ان کی پہلی شادی سیدہ فائزہ صاحبہ سے ہوئی جن سے ان کے دو بیٹے ہیں۔دوسری شادی حضرت خلیفۃ المسیح الثالث " کی بیٹی امتہ الشکور صاحبہ سے ہوئی۔اللہ تعالیٰ مرحوم سے مغفرت اور رحم کا سلوک فرمائے۔دوسرا جنازہ غائب جو ہے وہ مکرم امین اللہ خان صاحب سالک سابق مشنری یو ایس اے(USA) کا ہے جو 28 فروری 2017ء بروز منگل رات کو امریکہ میں وفات پاگئے اِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔مرحوم کو امریکہ، لائبیریا اور انگلینڈ میں بطور مشنری خدمات سر انجام دینے کی توفیق ملی۔1936ء میں عبد المجید خان صاحب آف ویر ووال کے ہاں ان کی ولادت ہوئی اور بچپن سے ہی جماعت کی خدمت کے لئے ان کے والدین نے ان کو وقف کر دیا تھا۔حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کی تحریک پر انہوں نے اپنے بیٹے کو وقف کیا۔مرحوم کی والدہ بہت خوش تھیں۔بیان کرتی تھیں کہ ان کے میاں نے یعنی عبدالمجید خان صاحب نے حضرت خلیفہ المسیح الثانی کی تحریک پر اپنے بیٹے کو وقف کیا اور قادیان سے واپس آکر بتایا کہ میں نے تمہارا بیٹا بھی وقف کر دیا ہے تا کہ شکوہ نہ ہو کہ پہلی بیوی کا بیٹا ڈاکٹر نصیر خان صاحب وقف کیا تھا اور میرا نہیں کیا۔پھر چوتھی جماعت میں 1945ء میں انہوں نے خود وقف کی درخواست کی۔1949ء میں مڈل کر کے جامعہ احمدیہ میں داخلہ لیا۔1955ء میں مولوی فاضل کا امتحان پاس کیا۔