خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 99
خطبات مسرور جلد 15 99 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 03 مارچ 2017 دین کی راہوں پر چلنے والا بنانے کے لئے ہوں اور نیک نسلیں پیدا کرنے کے لئے ہوں تا کہ آئندہ نسلیں محفوظ ہوں اور اسلام کی خدمت کرنے والی ہوں اور اس طرح پھر اللہ تعالیٰ کے فضلوں کی وارث بنیں۔نمازوں کے بعد میں کچھ جنازے پڑھاؤں گا۔دو جنازے حاضر ہیں اور دوغائب۔پہلا جنازہ مکرم محمد نواز مومن صاحب کا ہے جو واقف زندگی تھے ابن مکرم خدا بخش مومن صاحب۔یہ 15 فروری 2017ء کو 85 سال کی عمر میں جرمنی میں وفات پاگئے۔اِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی حضرت مومن جی صاحب کے داماد تھے۔آپ کے والد نے تقریباً 1922ء میں قادیان جاکر حضرت مصلح موعودؓ کے ہاتھ پر بیعت کی تھی۔ان کے (والد کے) بچے پیدائش کے وقت وفات پا جاتے تھے۔اس لئے غیر احمدیوں نے طعنے دیئے کہ چونکہ آپ احمدی ہو گئے ہیں اس لئے آپ کے بچے فوت ہو جاتے ہیں۔اس پر آپ کے والد نے آپ کی پیدائش پر اللہ تعالیٰ سے وعدہ کیا کہ اگر میرا یہ بچہ زندہ بچ گیا تو اس کو اسلام کی خدمت کے لئے وقف کروں گا۔چنانچہ خدا تعالیٰ کے فضل سے یہ بچہ اور اس کے بعد چار اور بچے بھی زندہ رہے اور انہوں نے لمبی عمریں پائیں۔آپ کے والد نے پیدائش سے ہی آپ کو اللہ تعالیٰ کی راہ میں وقف کر دیا تھا۔آپ نے 1959ء میں جامعہ احمدیہ سے تعلیم مکمل کی۔اس کے بعد ساری عمر سلسلہ کی خدمت میں گزاری۔دفتر الفضل ربوه، دارالقضاء، دفتر وصیت میں لمبا عرصہ خدمت کی توفیق ملی۔1996ء میں جرمنی چلے گئے وہاں بھی مختلف حیثیتوں سے جماعت کی خدمت کی توفیق پائی۔تبلیغ کا ان کو بڑا جنون تھا، بڑا شوق تھا۔صوم و صلوۃ کے پابند ، انتہائی صابر اور شاکر ، کم گو، دیندار اور بڑے مخلص بزرگ انسان تھے۔قرآن کریم سے بیحد محبت تھی اور علم پھیلانے اور ترتیل کے ساتھ قرآن کریم پڑھانے کا شوق تھا۔مرحوم موصی تھے۔پسماندگان میں ایک بیٹی اور ایک بیٹا ہیں۔دوسرا جنازہ یہاں کے مکرم سید رفیق احمد سفیر صاحب کا ہے جو صدر جماعت سر بٹن (Surbiton) تھے۔28 فروری 2017ء کو 1 6 سال کی عمر میں وفات پاگئے۔اِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔آپ کے والد ڈاکٹر سفیر الدین صاحب کماسی غانا میں احمدیہ سیکنڈری سکول کے پہلے پر نسپل تھے۔سید رفیق سفیر صاحب کی پیدائش لندن میں ہوئی اور بچپن سے ہی جماعتی کاموں میں سرگرم رہے۔اطفال اور خدام الاحمدیہ کے قائد ، سیکرٹری اطفال اور خدام الاحمدیہ کے قائد اور انصار اللہ کی مجلس میں مرکزی طور پر قائد صحت جسمانی کے علاوہ قائد عمومی کی حیثیت سے بھی خدمت کی توفیق ملی۔وفات سے قبل سر بٹن جماعت کے صدر کے طور پر خدمت بجالا رہے تھے۔خلافت کے ساتھ گہر ا محبت کا تعلق تھا۔نمازوں کے پابند، تہجد گزار ، دعا گو، ملنسار، دھیمی طبیعت کے مالک بہت نیک اور مخلص انسان تھے۔مرحوم موصی تھے۔پسماندگان میں والدہ ساس کے علاوہ اہلیہ ، دو بیٹیاں اور دو بیٹے یاد گار چھوڑے ہیں۔آپ کی اہلیہ لکھتی ہیں کہ انتہائی نرم اور دھیمے مزاج کے انسان تھے۔بچوں کو بہت پیار اور لگن سے