خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 98 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 98

خطبات مسرور جلد 15 98 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 03 مارچ 2017 ہے۔پس اگر دوکان ایسی نہیں ہے جس میں سے ہر ایک بیماری کی دوامل سکتی ہے تو وہ دوکان چل نہیں سکتی۔پس غور کرو کہ کیا یہ سچ نہیں کہ بعض مشکلات مردوں کے لئے ایسی پیش آجاتی ہیں جن میں وہ نکاح ثانی کے لئے مضطر ہوتے ہیں۔وہ شریعت کس کام کی جس میں گل مشکلات کا علاج نہ ہو۔دیکھو انجیل میں طلاق کے مسئلہ کی بابت صرف زنا کی شرط تھی اور دوسرے صد با طرح کے اسباب جو مرد اور عورت میں جانی دشمنی پیدا کر دیتے ہیں ان کا کچھ ذکر نہ تھا۔عورتوں کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ "اے عور تو فکر نہ کرو جو تمہیں کتاب ملی ہے وہ انجیل کی طرح انسانی تصرف کی محتاج نہیں اور اس کتاب میں جیسے مردوں کے حقوق محفوظ ہیں عورتوں کے حقوق بھی محفوظ ہیں۔اگر عورت مرد کے تعدد ازواج پر ناراض ہے تو وہ بذریعہ حاکم خلع کر اسکتی ہے۔خدا کا یہ فرض تھا کہ مختلف صورتیں جو مسلمانوں میں پیش آنے والی تھیں اپنی شریعت میں ان کا ذکر کر دیتا تا شریعت ناقص نہ رہتی۔سو تم اے عور تو اپنے خاوندوں کے ان ارادوں کے وقت کہ وہ دوسرا نکاح کرنا چاہتے ہیں خدا تعالیٰ کی شکایت مت کرو بلکہ تم دعا کرو کہ خدا تمہیں مصیبت اور ابتلاء سے محفوظ رکھے۔" یہ دعا کرنے کی اجازت ہے کہ اگر مرد نکاح کرنا چاہتے ہیں تو اس مصیبت اور ابتلاء سے تمہیں محفوظ رکھے تاکہ وہ شادی کریں ہی نہ۔فرمایا کہ " بیشک وہ مرد سخت ظالم اور قابل مواخذہ ہے جو دو جو روئیں کر کے انصاف نہیں کرتا مگر تم خود خدا کی نافرمانی کر کے موردِ قہر الہی مت بنو۔ہر ایک اپنے کام سے پوچھا جائے گا۔اگر تم خدا تعالیٰ کی نظر میں نیک بنو تو تمہارا خاوند بھی نیک کیا جاوے گا۔اگرچہ شریعت نے مختلف مصالح کی وجہ سے تعدد ازواج کو جائز قرار دیا ہے لیکن قضا و قدر کا قانون تمہارے لئے کھلا ہے۔اگر شریعت کا قانون تمہارے لئے قابل برداشت نہیں تو بذریعہ دعا قضا و قدر کے قانون سے فائدہ اٹھاؤ کیونکہ قضاء قدر کا قانون شریعت کے قانون پر بھی غالب آجاتا ہے۔تقویٰ اختیار کرو۔دنیا سے اور اس کی زینت سے بہت دل مت لگاؤ۔" (کشتی نوح، روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 80-81) اور قضا و قدر کا قانون کیا ہے ؟ یہ کہ دعا کرو اللہ تعالیٰ اس مرد کے دل سے دوسری شادی کا خیال نکال دے۔گو اس کو اجازت تو ہے لیکن فرمایا کہ اگر تم دعا کرو اور ایسی دعا کر وجو دل سے نکلی ہوئی ہو تو ہو سکتا ہے تمہاری وہ دعا قبول ہو جائے اور تم مشکل اور مصیبت میں نہ پڑو اور شادی کا موقع ہی پیدا نہ ہو۔اللہ تعالیٰ جماعت کے افراد کو مردوں کو ، عورتوں کو عقل اور توفیق دے کہ وہ اپنے عائلی مسائل اللہ تعالیٰ کی تعلیم کے مطابق حل کرنے والے ہوں اور دنیاوی خواہشات کے بجائے دین مقدم ہو۔اللہ تعالیٰ کا خوف اور تقویٰ ہمیشہ پیش نظر ہو۔اسی طرح نئے رشتوں کے مسائل بھی اللہ تعالیٰ دور فرمائے۔بہت سارے مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ لڑکوں اور لڑکیوں کو یہ توفیق دے اور اس بات کو سمجھنے کی توفیق دے کہ شادی بیاہ صرف دنیاوی اغراض کے لئے یاد نیاوی اغراض کو پورا کرنے کے لئے نہیں بلکہ دین کو مقدم کرتے ہوئے آئندہ نسلوں کو